نئی دہلی: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ پیر کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے کے لیے روانہ ہوگئے۔ وہ 19 اور 20 اکتوبر کو ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ حکومت کے اجلاس میں ہندوستان کی نمائندگی کریں گے۔ راج ناتھ سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی روانگی کی اطلاع دیتے ہوئے کہا، ’’دوشنبے کے لیے نئی دہلی سے روانہ ہو رہا ہوں۔ 19 اور 20 اکتوبر 2026 کو تاجکستان میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ حکومت کے اجلاس میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے کا منتظر ہوں۔‘‘
ان کے مطابق، اجلاس میں ثقافت، رابطہ کاری، معیشت، جدت طرازی، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ تنظیم کے مالیاتی اور ادارہ جاتی امور میں ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل کے سربراہانِ حکومت کا یہ اجلاس جاری تعاون کے اقدامات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے اور تنظیم کے مالیاتی و ادارہ جاتی نظام سے متعلق فیصلوں پر غور کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان شنگھائی تعاون تنظیم کے مختلف طریقۂ کار میں سرگرمی سے حصہ لے رہا ہے اور اسٹارٹ اَپ، جدت طرازی، ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے اور عوام کے درمیان روابط جیسے شعبوں میں اقدامات کے ذریعے علاقائی تعاون میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس اجلاس کے دوران ہندوستان کو تنظیم کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی عملی تعاون کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کرنے کا موقع ملے گا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ حکومت کی کونسل کا گزشتہ اجلاس 18 نومبر 2025 کو روس کے دارالحکومت ماسکو میں منعقد ہوا تھا۔ اس میں ہندوستان کی نمائندگی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کی تھی۔
اس سال جولائی میں پاکستان نے اشارہ دیا تھا کہ وہ 2027 میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان کے اجلاس کے لیے ہندوستان کو دعوت دے گا۔ پاکستان 2027 کے اجلاس کی میزبانی کرنے والا ہے اور اس نے کہا تھا کہ میزبان ہونے کی حیثیت سے اس پر تمام رکن ممالک کو مدعو کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران یہ بات اس سوال کے جواب میں کہی تھی کہ آیا ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی ایس سی او اجلاس میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔
شنگھائی تعاون تنظیم میں اس وقت دس رکن ممالک شامل ہیں، جن میں بیلاروس، چین، ہندوستان، ایران، قزاقستان، کرغزستان، پاکستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ یہ ممالک مجموعی طور پر تقریباً 3 کروڑ 60 لاکھ مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں اور ان کی آبادی 340 کروڑ سے زیادہ ہے۔ تنظیم کے رکن ممالک مجموعی طور پر عالمی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 25 فیصد اور عالمی تجارت کا 15 فیصد سے زیادہ حصہ رکھتے ہیں۔ تنظیم کا مقصد بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور ضابطوں کی روشنی میں مشترکہ مفادات کے مختلف شعبوں میں رکن ممالک کے درمیان اچھے ہمسایہ تعلقات، دوستی اور تعاون کو طویل مدت تک مضبوط بنانا ہے۔