میونخ،: عالمی ایغور کانگریس (ڈبلیو یو سی) نے ناروے کی نوبل کمیٹی کی جانب سے 2026 کا نوبل امن انعام ناوی پلّے کو دیے جانے کے فیصلے پر سنگین تشویش ظاہر کی ہے۔ تنظیم نے الزام لگایا ہے کہ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی حیثیت سے 2008 سے 2014 تک اپنی مدت کے دوران پلّے ایغور اور چین کے دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں کے تحفظ میں ناکام رہیں۔ عالمی ایغور کانگریس کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق، تنظیم کے خدشات کی بنیادی وجہ یہ الزام ہے کہ پلّے کے دور میں ایغور اور چین کے دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں کے نام اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ان کی شرکت سے متعلق معلومات ان کی اجازت کے بغیر چینی حکومت کو فراہم کی گئیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ معلومات پلّے کی سربراہی میں کام کرنے والے غیر سرکاری تنظیموں کے رابطہ دفتر کے ذریعے فراہم کی گئیں، حالاں کہ اس سے متعلقہ کارکنوں اور ان کے اہل خانہ کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، اس معاملے سے متاثر ہونے والوں میں عالمی ایغور کانگریس کے سابق صدر دلکن عیسیٰ بھی شامل تھے، جنہیں 2012 اور 2013 کے دوران اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں شرکت کے لیے منظوری حاصل کرنے اور وہاں تک رسائی میں شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
عالمی ایغور کانگریس کے بیان کے مطابق، عیسیٰ نے اس انکشاف کو ’’ایک ایسے ادارے کی جانب سے اعتماد کا سنگین دھوکا قرار دیا، جسے ہماری حفاظت کرنی چاہیے تھی۔‘‘ عالمی ایغور کانگریس کے صدر ترغون جان علاؤالدون نے انسانی حقوق کے شعبے میں ناوی پلّے کی خدمات کا اعتراف کیا، تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں کو تحفظ فراہم کرنے کے معاملے میں ان کے کردار پر سوال اٹھائے۔ بیان کے مطابق، علاؤالدون نے کہا، ’’ہم ناوی پلّے کے اہم کاموں کا اعتراف کرتے ہیں، لیکن وہ انسانی حقوق کے کارکنوں کو مؤثر طور پر تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے زیر قیادت دفتر کی جانب سے اس نوعیت کی معلومات فراہم کیا جانا اعتماد کی سنگین خلاف ورزی تھی۔
عالمی ایغور کانگریس نے اس خطرے کی جانب بھی توجہ دلائی جس کا سامنا ایغور، تبتی، ہانگ کانگ کے باشندوں، چین کے دیگر مخالفین اور بیرون ملک آباد چینی برادریوں کو مسلسل کرنا پڑ رہا ہے۔ تنظیم نے اسے سرحدوں سے باہر بھی کی جانے والی سیاسی سرکوبی قرار دیا۔ تنظیم کے مطابق، چینی حکومت دنیا بھر میں سرگرم کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو ڈرانے، دھمکانے اور خاموش کرانے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتی ہے۔
اس نے خبردار کیا کہ اقوام متحدہ کے حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے معلومات فراہم کرنے سے ایسے افراد اور ان کے اہل خانہ نگرانی، ہراسانی اور ظلم و ستم کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ بعض معاملات میں ایغور افراد کے قریبی رشتہ داروں کو حراست میں لے لیا گیا اور ان سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا۔ تنظیم نے اس سلسلے میں دلکن عیسیٰ کے معاملے کے ساتھ ہزاروں دیگر افراد کی مثالیں بھی پیش کیں۔
عالمی ایغور کانگریس نے انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے دیگر شعبوں میں ناوی پلّے کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ان کامیابیوں کی بنیاد پر چین کے حوالے سے ان کے کردار پر سوال اٹھانے سے گریز نہیں کیا جانا چاہیے۔ خاص طور پر ایغور انسانی حقوق کے کارکنوں کو تحفظ فراہم کرنے اور ایغور برادری کے خلاف سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ان کے ردعمل کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ تنظیم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایغور حقوق کے لیے سرگرم تنظیمیں انسانی حقوق کے کارکنوں کے تحفظ اور اپنے ملک سے باہر رہنے والے کارکنوں اور ان کے اہل خانہ کو لاحق خطرات پر مسلسل تشویش ظاہر کر رہی ہیں۔