نئی دہلی: روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی کو ان کی 76ویں سالگرہ پر مبارکباد دی اور ہندوستان اور روس کے درمیان ’’خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری‘‘ کو مضبوط بنانے میں ان کے کردار کی تعریف کی۔ ہندوستان میں روسی سفارتخانے نے یہ اطلاع دی۔ روسی سفارتخانے نے ایکس پر پوتن کا پیغام شیئر کرتے ہوئے کہا کہ روسی صدر نے 17 ستمبر کو مودی کی سالگرہ کے موقع پر انہیں گرمجوشی سے مبارکباد پیش کی ہے۔
پوتن نے اپنے پیغام میں کہا، ’’آپ کو اپنے ہم وطنوں کا گہرا احترام اور عالمی سطح پر بڑا مقام حاصل ہے۔ ہندوستان اور روس کے درمیان خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے میں آپ کے ذاتی کردار کو کم کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔‘‘ روسی صدر نے گزشتہ ہفتے نئی دہلی کے دورے کے دوران ان کے اور روسی وفد کے استقبال اور مہمان نوازی کے لیے بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت بامعنی، کھلی اور نتیجہ خیز رہی۔ پوتن نے مزید کہا کہ مودی سے بات چیت کرنا ہمیشہ خوشی کا باعث رہا ہے اور ان مذاکرات نے ایک بار پھر ان کی ’’غیر معمولی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی‘‘ کا مظاہرہ کیا۔
روسی صدر نے کہا کہ روس اور ہندوستان دونوں دوست ممالک کے مفاد میں دوطرفہ اور بین الاقوامی معاملات پر تعمیری تعاون جاری رکھیں گے۔ پوتن کا یہ پیغام ان کے ہندوستان کے حالیہ دورے کے بعد سامنے آیا ہے۔ وہ 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں منعقدہ 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئے تھے۔ برکس اجلاس کے دوران پوتن نے دو اجلاسوں میں شرکت کی اور بھارت منڈپم میں ’بھارت انوویٹس‘ نمائش کا بھی مشاہدہ کیا۔ انہوں نے نئی دہلی میں برکس بزنس فورم کے رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مغربی ممالک پر تجارت اور سفارتی دباؤ کو ریاستی سطح پر مداخلت میں تبدیل کرنے کا الزام بھی لگایا تھا۔
پوتن نے کہا تھا کہ روس پر 30 ہزار سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جو دنیا کے دیگر تمام ممالک پر عائد پابندیوں کی مجموعی تعداد سے دو گنا زیادہ ہیں۔ انہوں نے عالمی اقتصادی دباؤ اور مسابقت کے نام پر اختیار کیے جانے والے طریقوں پر تنقید کی تھی۔ برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر مودی اور پوتن نے دوطرفہ ملاقات بھی کی تھی۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت کو مزید فروغ دینے اور ’اقتصادی تعاون پروگرام 2030‘ پر عمل درآمد کے علاوہ بنیادی ڈھانچے، توانائی، ٹیکنالوجی، دفاع اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
اس سے قبل دونوں رہنماؤں کی ملاقات 31 اگست کو بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی۔ وزارت خارجہ کے مطابق، مودی اور پوتن نے مغربی ایشیا اور بحیرہ اسود کے خطے کے تنازعات سمیت اہم علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ان تنازعات کا سمندری تجارت اور ہندوستانی بحری جہازوں کے عملے کی حفاظت اور سلامتی پر بھی اثر پڑا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے اور ہندوستان امن کی کوششوں میں مدد کے لیے تیار ہے۔