یروشلم: اسرائیل میں غیر فیصلہ کن عام انتخابات کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ نے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جماعتوں کے ساتھ دوسرے دن بھی اہم مشاورت شروع کر دی ہے۔ ان مشاورتوں کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ کون سا سیاسی رہنما ملک کی اگلی حکومت بنانے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے۔ ’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ باضابطہ مشاورت گزشتہ شام چھوٹی پارلیمانی جماعتوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی، جن میں ریلیجس صہیونزم، شاس، اسرائیل بیتینو اور زہوت شامل ہیں۔ ان ملاقاتوں کو یروشلم میں واقع صدارتی کمپاؤنڈ سے براہ راست نشر کیا جا رہا ہے۔
جمعرات کو مشاورت کا سلسلہ طے شدہ پروگرام کے مطابق آگے بڑھا۔ اس دوران یونائیٹڈ توراہ جوڈزم، اوتزما یہودیت، ڈیموکریٹس، راعم، جوائنٹ لسٹ اور بی یاخاد کے نمائندوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اس کے بعد گادی آئزن کوٹ کی جماعت یاشار نے صدر سے ملاقات کی، جب کہ آخر میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ کے نمائندوں نے بھی صدر سے ملاقات کی۔ ان مشاورتوں کے دوران ہر سیاسی جماعت سے کہا جا رہا ہے کہ وہ وزیر اعظم کے عہدے کے لیے اپنے پسندیدہ امیدوار کا نام پیش کرے۔ اس کے بعد صدر فیصلہ کریں گے کہ حکومت سازی کے لیے ابتدائی ذمہ داری کس سیاسی رہنما کو سونپی جائے۔
اسرائیلی قانون کے مطابق صدر اس رکن پارلیمنٹ کو حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپتے ہیں جس کے بارے میں یہ امکان سب سے زیادہ ہو کہ وہ کامیابی کے ساتھ حکومتی اتحاد تشکیل دے سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صدر کے لیے ضروری نہیں کہ وہ پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کے رہنما ہی کو حکومت سازی کی دعوت دیں۔ سیاسی صف بندی کے حوالے سے اوتزما یہودیت اور لیکوڈ نے کھل کر اعلان کیا ہے کہ وہ موجودہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حمایت کریں گی۔ ’دی یروشلم پوسٹ‘ کے مطابق، بدھ کو ہونے والی مشاورت میں ریلیجس صہیونزم پارٹی، شاس اور زہوت نے بھی نیتن یاہو کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اسی سیاسی اتحاد کا حصہ بننے کا اشارہ دیا۔
دوسری جانب یاشار، ڈیموکریٹس، بی یاخاد اور راعم نے یاشار کے رہنما گادی آئزن کوٹ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اویگدور لیبرمین کی قیادت والی اسرائیل بیتینو نے بھی آئزن کوٹ کو اگلی حکومت کی تشکیل کے لیے اپنا پسندیدہ امیدوار قرار دیا ہے۔ اس کی اطلاع ’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ اور ’دی یروشلم پوسٹ‘ نے دی ہے۔
ادھر یونائیٹڈ توراہ جوڈزم کے چار ارکان پر مشتمل دیگل ہتوراہ دھڑے نے دونوں امیدواروں میں سے کسی کی بھی حمایت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جب کہ اس جماعت کے باقی تین ارکان پر مشتمل اگودت اسرائیل دھڑے نے ابھی تک اپنا موقف واضح نہیں کیا ہے۔
عرب اکثریتی جماعت جوائنٹ لسٹ نے بھی ابھی تک اپنا حتمی فیصلہ ظاہر نہیں کیا ہے۔ اس لیے امکان ہے کہ وہ آئزن کوٹ کی حمایت کرے یا ووٹنگ سے الگ رہے۔ اگرچہ مختلف جماعتوں نے اپنے اپنے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے، لیکن ’دی یروشلم پوسٹ‘ کے مطابق صدر ہرزوگ کی جانب سے حکومت سازی کا باضابطہ اختیار گادی آئزن کوٹ کو دیے جانے کے امکانات زیادہ ہیں، کیونکہ متعدد سیاسی جماعتوں نے ان کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔