پولینڈ کے صدر کا حکومت پر آئینی نظام کی خلاف ورزی کا الزام

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 31-10-2026
پولینڈ کے صدر کا حکومت پر آئینی نظام کی خلاف ورزی کا الزام
پولینڈ کے صدر کا حکومت پر آئینی نظام کی خلاف ورزی کا الزام

 



وارسا: پولینڈ کے صدر کارول ناوروکی نے ہفتے کے روز مقامی وقت کے مطابق حکومت پر ملک کے آئینی نظام کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ آئینی عدالت کے معاملے پر سیاسی ٹکراؤ میں شدت آنے کے بعد انہوں نے قانونی نظام بحال کرنے کا مطالبہ کیا اور پارلیمنٹ میں موجود مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ ہنگامی مشاورت بلانے کا اعلان کیا۔ صدر کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ناوروکی کے حوالے سے کہا کہ رات کے دوران ملک کے آئینی نظام کی خلاف ورزی کی گئی اور ریاست کے ایک آئینی ادارے پر زبردستی قبضہ کرنے کی کوشش ہوئی۔

ناوروکی نے کہا، ’’گزشتہ رات جمہوریہ پولینڈ کے آئینی نظام کی خلاف ورزی ہوئی اور ریاست کے ایک آئینی ادارے پر زبردستی قبضہ کیا گیا۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس زیگنیف کاپنسکی سے مشاورت کی ہے۔ ان کے مطابق چیف جسٹس نے بھی ان افراد کی کارروائیوں کو قانونی تسلیم نہیں کیا ہے، جن پر آئینی عدالت میں زبردستی اقتدار پر قابض ہونے کا الزام ہے۔ ناوروکی نے کہا، ’’میں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس زیگنیف کاپنسکی سے مشاورت کی ہے۔ وہ بھی ان افراد کی کارروائیوں کو قانونی تسلیم نہیں کرتے جو آئینی عدالت میں غیر قانونی طور پر اقتدار پر قابض ہو رہے ہیں۔‘‘ صدر نے آئینی نظام فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے آئینی عدالت کے احاطے میں بھیجی گئی نفاذِ قانون کی فورسز وہاں سے واپس جائیں۔

انہوں نے کہا، ’’میں قانونی نظام کی بحالی اور حکومت کی جانب سے آئینی عدالت کے احاطے میں بھیجی گئی نفاذِ قانون کی فورسز کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہوں۔‘‘ پولینڈ کے صدر نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے آئینی عدالت کے قانونی طور پر عہدے پر فائز نائب صدر، جج بارٹومیئی سوچانسکی کو عدالت کے اندر داخل ہونے کا راستہ فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے آئینی عدالت کے قانونی طور پر عہدے پر فائز نائب صدر، جج بارٹومیئی سوچانسکی کے عدالت میں داخلے کو یقینی بنایا ہے۔‘

‘ ملک کی داخلی سلامتی سے متعلق خدشات اور سیاسی محاذ آرائی میں اضافے کے درمیان ناوروکی نے اعلان کیا کہ وہ صورت حال پر تبادلہ خیال کے لیے پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ فوری مشاورت کریں گے۔ انہوں نے کہا، ’’جمہوریہ پولینڈ کی داخلی سلامتی کو لاحق خطرے کے پیش نظر میں آج پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ ہنگامی مشاورت طلب کر رہا ہوں، تاکہ سیاسی صورت حال کو مستحکم کرنے اور آئینی نظام بحال کرنے کا راستہ نکالا جا سکے۔‘‘ صدر نے آئینی عدالت میں موجود ان تمام افراد کا شکریہ بھی ادا کیا جو ان کے بقول ملک کے آئین کے دفاع کے لیے کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو آئینی عدالت میں موجود ہیں اور جمہوریہ پولینڈ کے آئین کے دفاع میں کھڑے ہیں۔‘‘ یہ تازہ پیش رفت وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک اور صدر ناوروکی کے درمیان اختیارات کی کشمکش کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔

اس ٹکراؤ نے پولینڈ کو ایک سنگین آئینی اور سیاسی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ جمعہ کی رات اس وقت کشیدگی مزید بڑھ گئی جب بھاری ہتھیاروں سے لیس پولیس دستوں نے وارسا میں آئینی عدالت کے صدر دفتر کو گھیرے میں لے لیا۔ بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں نے عمارت کے اطراف محاصرہ کر لیا، تاہم وہ عمارت کے اندر داخل نہیں ہوئے۔ اس جاری تنازع کے بارے میں اے این آئی کے سوال پر پولینڈ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ رادوسواف سیکورسکی نے کہا، ’’سبکدوش ہونے والے صدر اس بات میں رکاوٹ ڈال رہے تھے کہ پارلیمنٹ میں منتخب اکثریت اپنا کام کر سکے، فیصلے سنا سکے، قوانین کی تشریح کر سکے یا حتیٰ کہ اپنا بجٹ بھی منظور کر سکے۔ اس لیے آئینی عدالت کو دوبارہ کام کرنے کے قابل بنانے کے لیے کارروائی کرنا ضروری ہو گیا تھا۔‘‘ پولیس کی تعیناتی کی درخواست جج انا کورون پیوترووسکا نے کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ججوں اور انتظامی عملے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ بحران اس وقت تیزی سے بڑھا جب کورون پیوترووسکا نے آئینی عدالت کے صدر بوگدان شفیونچکووسکی اور ان کے نائب بارٹومیئی سوچانسکی کو ایک ماہ کے لیے معطل کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے عارضی طور پر ادارے کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ پولینڈ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پی اے پی کے جاری کردہ بلیٹن کے مطابق، دونوں سینئر عہدیداروں پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنی سرکاری ذمہ داریاں درست طریقے سے ادا نہیں کیں اور قانونی طور پر مقرر کیے گئے ججوں، جن میں کورون پیوترووسکا بھی شامل ہیں، کو عدالت کی کارروائی میں حصہ لینے سے روکا۔

معطل کیے گئے دونوں عہدیداروں کے سرکاری تعارف بعد میں عدالت کے آن لائن پورٹل سے غائب ہو گئے۔ اس کے جواب میں آئینی عدالت نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ویب سائٹ پر ’’غیر قانونی قبضہ‘‘ کیا گیا ہے۔ عدالت نے مؤقف اختیار کیا کہ کورون پیوترووسکا کو عدالت کی جانب سے بات کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے اور خبردار کیا کہ اس کارروائی میں شامل افراد ’’بغاوت کے جرم‘‘ کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ اس ادارے کے گرد کشیدگی 2026 کے آغاز سے مسلسل بڑھ رہی ہے۔ تنازع اس وقت شروع ہوا جب صدر ناوروکی نے پارلیمنٹ کی جانب سے منتخب کیے گئے 6 ججوں میں سے 3 کو عہدے کا حلف دلانے سے انکار کر دیا۔

اس وسیع تر اختلاف کی بنیادی وجہ آئینی عدالت کی تشکیل اور اس کے ججوں کی تقرری کے معاملے پر اختلافات ہیں۔ وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک کی حکومت سابقہ قانون و انصاف پارٹی (پی آئی ایس) کی حکومت کے دور میں مقرر کیے گئے ججوں کے فیصلوں کی قانونی حیثیت تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے۔ اس کے برعکس صدر ناوروکی اور عدالت کے صدر شفیونچکووسکی نے 2026 میں پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں (سیم) کی جانب سے منتخب کیے گئے ججوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔