پی ایم مودی کی لولا کو انتخابی کامیابی پر مبارک باد

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 26-10-2026
پی ایم  مودی  کی لولا کو انتخابی کامیابی پر مبارک باد
پی ایم مودی کی لولا کو انتخابی کامیابی پر مبارک باد

 



نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا کو دوبارہ انتخاب جیتنے پر مبارک باد دی اور ہندوستان اور برازیل کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا اور وسیع بنانے کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا، ’’میرے عزیز دوست صدر لولا کو دوبارہ شاندار انتخابی کامیابی حاصل کرنے پر دلی مبارک باد۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’میں ہندوستان اور برازیل کے درمیان کثیر جہتی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا اور وسیع بنانے کے لیے ان کے ساتھ قریبی تعاون کا منتظر ہوں۔‘‘ مودی نے کہا کہ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں اپنے تعاون کو مزید مضبوط بناتے رہیں گے اور عالمی جنوب کی مشترکہ ترجیحات کو آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم مل کر مختلف شعبوں میں اپنا تعاون مضبوط کریں گے، عالمی جنوب کی مشترکہ ترجیحات کو آگے بڑھائیں گے اور ایک زیادہ جامع، منصفانہ اور پائیدار دنیا کی تعمیر کے لیے کام کریں گے۔‘

‘ دریں اثنا، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا کہ لولا دا سلوا کی انتخابی کامیابی کے دور رس جغرافیائی و سیاسی اثرات مرتب ہوں گے، خاص طور پر برکس کے لیے۔ ان کے مطابق، لولا کی قیادت سے برازیل کے کثیر قطبی عالمی نظام کے تئیں عزم کو تقویت ملے گی اور عالمی جنوب کی آواز کے طور پر برکس کا کردار مزید مضبوط ہوگا۔ تھرور نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ لولا کی کامیابی صرف برازیل کی داخلی سیاست تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے اثرات بین الاقوامی تجارت، عالمی نظامِ حکمرانی اور امریکہ کے ساتھ برازیل کے تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’اس کامیابی کے جغرافیائی و سیاسی اثرات بھی ہیں، خصوصاً برکس کے لیے۔ لولا کی قیادت سے کثیر قطبی عالمی نظام کے لیے برازیل کا عزم مزید مضبوط ہوگا۔ اس سے عالمی تجارت اور نظامِ حکمرانی کی تشکیلِ نو میں عالمی جنوب کی ایک اہم آواز کے طور پر برکس کی حیثیت مستحکم ہوگی۔‘‘ ششی تھرور نے سماجی شمولیت، معاشی انصاف اور غربت کے خاتمے پر لولا کی توجہ کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، لولا کی اقتدار میں واپسی سے محنت کش طبقے اور غریبوں کے مفادات کو ایک بار پھر زیادہ اہمیت ملے گی۔

تھرور نے کہا، ’’کارخانوں سے لے کر عالمی سطح تک، لولا کی تاریخی کامیابی اس بات کی طاقتور یاد دہانی ہے کہ برازیل کی اصل طاقت اس کے عوام ہیں۔ محنت کش طبقے اور غریبوں کے پُرعزم حامی کی حیثیت سے ان کی اقتدار میں واپسی سماجی شمولیت، معاشی انصاف اور برازیل میں غربت کے خلاف جدوجہد کو نئی قوت بخشے گی۔‘‘ تھرور نے لولا کی کامیابی کے بعد برازیل اور امریکہ کے تعلقات میں ممکنہ مشکلات کی جانب بھی اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے کھل کر لولا کے حریف کی حمایت کی تھی، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا، ’’اس کامیابی سے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کے لیے بھی چیلنج پیدا ہوتا ہے، جس نے کھل کر ان کے حریف کی حمایت کی تھی۔ تجارت اور محصولات کے تنازعات سمیت معاشی اور سفارتی کشیدگی برقرار رہنے کا امکان ہے، لیکن لولا کی آزاد خارجہ پالیسی قومی خودمختاری کو کسی کی تابع داری پر ترجیح دیتی رہے گی۔‘‘ تھرور نے مزید کہا کہ برازیل کے انتخابی نتائج سماجی ترقی، جمہوری استقامت اور عالمی تعاون کے حق میں عوامی فیصلے کی عکاسی کرتے ہیں۔ لاطینی امریکہ میں دائیں بازو کی سیاسی قوتوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے درمیان یہ نتیجہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’برازیل نے سماجی ترقی، جمہوری استقامت اور عالمی تعاون کا راستہ منتخب کیا ہے۔

لاطینی امریکہ میں دائیں بازو کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت کی لہر کے درمیان یہ ایک تاریخی اور بیشتر لوگوں کے لیے غیر متوقع نتیجہ ہے۔‘‘ 80 سالہ لولا دا سلوا سابق کارخانہ مزدور ہیں اور ورکرز پارٹی (پی ٹی) کے رہنما ہیں۔ انہوں نے صدارتی انتخابات کے دوسرے اور سخت مقابلے والے مرحلے میں انتہائی دائیں بازو کے امیدوار فلاویو بولسونارو کو شکست دے کر دوبارہ کامیابی حاصل کی۔ پہلے مرحلے میں دونوں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ ہوا تھا۔

انتخابی کامیابی کے بعد لولا نے برازیل کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ’’میں برازیل کے عوام، جمہوریت کے دفاع میں سڑکوں پر نکلنے والے نوجوانوں اور ہر اس شخص کا ہمیشہ شکر گزار رہوں گا جس نے ووٹ ڈالنے اور ہمارے ملک کے مستقبل کے تحفظ کے لیے بڑی کوشش کی۔ آپ سب نے مجھے متاثر کیا ہے اور میری امید کو تازہ کیا ہے۔ یہ کامیابی ان لوگوں کی ہے جو یقین رکھتے ہیں، جدوجہد کرتے ہیں اور زیادہ منصفانہ، خودمختار اور جمہوری برازیل کی تعمیر سے کبھی دست بردار نہیں ہوتے۔‘‘ اتوار کو دوبارہ انتخاب جیتنے کے بعد لولا دا سلوا نے کہا کہ ’’برازیل کسی کا پچھواڑا نہیں ہے۔‘

‘ ان کا اشارہ بیرونی مداخلت کی جانب تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتخابی مہم نے ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے ذریعے کی جانے والی بیرونی مداخلت کو شکست دی ہے۔ انہوں نے فیصلہ سازی کے عمل میں عوام کی شرکت بڑھانے کا وعدہ بھی کیا۔ ایکس پر اپنے پیغام میں لولا نے جمہوریت کے تحفظ کے لیے ووٹ ڈالنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا، ’’ہم لوگوں کو یہ سمجھانے میں کامیاب رہے کہ برازیل میں جمہوریت کے تحفظ کے لیے ووٹ ڈالنا انتہائی ضروری ہے۔ ہم نے ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے ذریعے کی جانے والی بیرونی مداخلت کو شکست دی۔ برازیل کسی کا پچھواڑا نہیں ہے۔ ہم ملک چلانے کا طریقہ بدلیں گے اور فیصلہ سازی کے عمل میں عوام کی شرکت بڑھائیں گے۔‘‘