ممبئی: مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کینیڈا کے کاروباری اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہندوستان کو صرف اپنی مصنوعات کی فروخت کی منڈی کے طور پر نہ دیکھیں، بلکہ اسے پیداوار، جدت اور ڈیزائن کا مرکز بھی بنائیں، جہاں سے دنیا بھر کی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ہنرمند افراد کی بڑی تعداد اور مختلف ممالک کے ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدے کمپنیوں کو اپنی مسابقتی صلاحیت بڑھانے کے اچھے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
ممبئی میں کینیڈا کے تجارتی وفد کے دورۂ ہندوستان کے دوران منعقدہ ایک تجارتی استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے پیوش گوئل نے کینیڈین کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ ہندوستان کی اندرونی منڈی سے آگے بڑھ کر اسے دوسری عالمی منڈیوں میں سامان تیار کرنے اور برآمد کرنے کے مرکز کے طور پر بھی استعمال کریں۔ انہوں نے کہا، ’’براہِ کرم ہندوستان کو صرف اپنی منڈی نہ بنائیں، بلکہ اسے اپنی پیداواری سرگرمیوں، جدت اور ڈیزائن کا مرکز بھی بنائیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کو بنیاد بنا کر ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے سے کاروباری ادارے اپنی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
پیوش گوئل نے کہا کہ آزاد تجارتی اور ترجیحی تجارتی معاہدوں کے ذریعے ہندوستان نے عالمی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 70 ٹریلین امریکی ڈالر کے برابر منڈیوں تک ترجیحی رسائی حاصل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان آئندہ ایک سے ڈیڑھ سال کے دوران مزید آٹھ ممالک یا ممالک کے گروپوں کے ساتھ بھی بات چیت کر رہا ہے۔ ان معاہدوں کے نتیجے میں ترجیحی رسائی حاصل کرنے والی منڈیوں کے مجموعی حجم میں مزید 15 ٹریلین امریکی ڈالر کی جی ڈی پی کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ گوئل نے کہا، ’’دنیا کی 115 ٹریلین ڈالر کی مجموعی قومی پیداوار میں سے ہندوستان کو یہاں سے تقریباً 85 ٹریلین ڈالر کی جی ڈی پی کے برابر منڈیوں تک ترجیحی رسائی حاصل ہو جائے گی۔‘
‘ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں سامان اور خدمات تیار کرنے والے کاروباری اداروں کے لیے اس میں بڑے مواقع موجود ہیں۔ ان کے مطابق کمپنیاں ہندوستان کی پیداواری صلاحیت، افرادی قوت اور ہنرمندی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ترجیحی تجارتی سہولتوں کے ذریعے بین الاقوامی منڈیوں میں اپنا کاروبار بڑھا سکتی ہیں۔ مرکزی وزیر نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ مجوزہ ہندوستان۔کینیڈا جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سی ای پی اے) کو حتمی شکل دیے جانے کا انتظار کیے بغیر تجارتی سرگرمیاں شروع کریں۔ انہوں نے کہا، ’’آئیے، تجارتی مذاکرات مکمل ہونے سے پہلے ہی کاروبار شروع کریں۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر تجارتی سرگرمیاں شروع کرنے سے کمپنیوں کو مستقبل کے معاہدے سے فائدہ اٹھانے کی تیاری کا موقع ملے گا۔ اس سے مذاکرات کرنے والے حکام کو بھی زیادہ مؤثر معاہدہ تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ پیوش گوئل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ کینیڈا کے وزیر بین الاقوامی تجارت منیندر سدھو کے ساتھ تقریباً 300 نمائندے ہندوستان آئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ بڑی تعداد دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے اور مضبوط کاروباری شراکت داری قائم کرنے کے امکانات کو ظاہر کرتی ہے۔
گوئل نے کہا کہ ہندوستان کی وسیع پیداواری صلاحیت، ہنرمند افرادی قوت اور کینیڈا کی ٹیکنالوجی، قدرتی وسائل اور جدت کے شعبوں میں مہارت کو یکجا کرکے زیادہ مضبوط سپلائی چین قائم کی جا سکتی ہے اور دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ہندوستان اور کینیڈا تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مجوزہ جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو گہرا کرنے کے لیے ایک باقاعدہ ڈھانچہ فراہم ہونے کی توقع ہے۔