ملواکی: مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا ہے کہ خوراک کو سلامتی، استحکام اور باہمی تعاون کا ذریعہ بنائے رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غذائی سپلائی چین کو سیاسی یا تجارتی دباؤ کے لیے استعمال کرنے اور ممالک کی جانب سے اپنی داخلی پالیسی اور غذائی تحفظ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے جائز تجارتی اقدامات کے درمیان واضح فرق کیا جانا چاہیے۔ پیوش گوئل نے یہ بات وسکونسن کے ملواکی میں جی20 کے وزرائے تجارت کے اجلاس کے دوران ’’زبردستی تجارتی اقدامات کے ذریعے خوراک کو ہتھیار بنانا‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیشن میں کہی۔ دو روزہ وزارتی اجلاس 30 ستمبر اور یکم اکتوبر کو منعقد ہو رہا ہے۔
گوئل نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا، ’’ہم سب کا مشترکہ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ خوراک سلامتی، استحکام اور تعاون کا ذریعہ بنی رہے۔ ساتھ ہی ہمیں غذائی سپلائی چین کو ہتھیار بنانے اور ان جائز اقدامات کے درمیان واضح فرق کرنا ہوگا جو ممالک اپنی داخلی پالیسی کے مقاصد حاصل کرنے اور غذائی تحفظ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اختیار کرتے ہیں۔‘‘ یہ اجلاس امریکی تجارتی نمائندے کی میزبانی میں ملواکی میں ہو رہا ہے۔ امریکہ نے وزارتی اجلاس کے ایجنڈے میں خوراک کی تجارت، عالمی سپلائی چین، عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے ’’موسٹ فیورڈ نیشن‘‘ اصول اور ساختی اضافی پیداواری صلاحیت جیسے موضوعات شامل کیے ہیں۔
ہندوستان نے کہا ہے کہ وہ جی20 کے رکن ممالک کے ساتھ مل کر ایسے کثیر ملکی تجارتی نظام کو آگے بڑھانے کی کوشش کرے گا جو قواعد پر مبنی، کھلا، جامع، شفاف اور غیر امتیازی ہو، جس کے مرکز میں ڈبلیو ٹی او ہو۔ ہندوستان نے اس کے ساتھ ترقی پذیر ممالک کے لیے مناسب پالیسی گنجائش برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ اجلاس کے موقع پر پیوش گوئل نے یورپی کمیشن کے تجارت اور اقتصادی سلامتی کے کمشنر ماروس سیفکووچ سے بھی ملاقات کی۔ گوئل نے بتایا کہ ملاقات میں ہندوستان اور یورپی یونین کے آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط اور اس کے نفاذ کی سمت میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اس کے علاوہ ہندوستان-یورپی یونین تجارت و ٹیکنالوجی کونسل، ڈبلیو ٹی او میں بامعنی اصلاحات اور جی20 کی مشترکہ ترجیحات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ بھی پیوش گوئل کے دورہ امریکہ کے دوران زیر بحث تجارتی امور میں شامل ہے۔ گوئل 29 ستمبر سے 5 اکتوبر تک امریکہ کے دورے پر ہیں اور ہندوستان-امریکہ دوطرفہ تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے امریکی حکام کے ساتھ بھی بات چیت کر رہے ہیں۔