نئی دہلی: دنیا میں جوہری بجلی گھروں کے پرانے ہوتے بیڑے کے باعث مستقبل میں جوہری توانائی کی پیداوار بڑھانے کے منصوبوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) کی نیوکلیئر ٹیکنالوجی ریویو 2026 رپورٹ کے مطابق، ممالک کو جہاں نئے جوہری ری ایکٹر تعمیر کرنے میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی، وہیں موجودہ ری ایکٹروں کی مدتِ کار بڑھانے اور انہیں فعال رکھنے پر بھی خرچ کرنا پڑے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ پوری کرنے اور توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے جوہری بجلی کی پیداوار میں اضافہ کرنے والے ممالک کے لیے ری ایکٹروں کی دیکھ بھال، مرمت، جدید کاری اور ان کی عملی مدت میں توسیع کے پروگرام تیزی سے اہم ہوتے جا رہے ہیں۔ آئی اے ای اے نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا کہ دنیا کی مجموعی جوہری بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا تقریباً 67 فیصد حصہ ایسے ری ایکٹروں پر مشتمل ہے جو 30 سال سے زیادہ عرصے سے کام کر رہے ہیں۔
ان کی تعداد 293 ہے اور ان کی مجموعی پیداواری صلاحیت 263.9 گیگاواٹ ہے۔ اسی طرح، دنیا کے 190 ری ایکٹر، جن کی مجموعی صلاحیت 135.5 گیگاواٹ ہے، 40 سال سے زیادہ عرصے سے کام کر رہے ہیں۔ یہ دنیا کی مجموعی جوہری بجلی پیداواری صلاحیت کا تقریباً 41 فیصد ہے۔ رپورٹ کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں جوہری توانائی کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کا انحصار صرف نئے ری ایکٹروں کی تعمیر اور انہیں بجلی کے نظام سے جوڑنے پر نہیں ہوگا، بلکہ موجودہ بجلی گھروں کی صلاحیت برقرار رکھنا بھی ضروری ہوگا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ پرانے ری ایکٹروں کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہیں مزید کتنے عرصے تک چلایا جا سکتا ہے یا انہیں مستقل طور پر بند کر دیا جائے۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ایک دہائی کے دوران دنیا کی مجموعی جوہری بجلی پیداواری صلاحیت میں نسبتاً معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ صلاحیت 2016 میں 370.2 گیگاواٹ تھی، جو 2025 میں بڑھ کر 379.9 گیگاواٹ ہوگئی۔ اس عرصے میں دنیا بھر میں 60 نئے جوہری ری ایکٹر بجلی کے نظام سے منسلک کیے گئے، جن سے مجموعی طور پر تقریباً 61.4 گیگاواٹ کی اضافی پیداواری صلاحیت حاصل ہوئی۔ ری ایکٹروں کی بڑھتی ہوئی عمر کے باوجود جوہری بجلی گھروں کی کارکردگی مضبوط رہی۔
آئی اے ای اے کی رپورٹ کے مطابق، 2025 میں دنیا بھر میں جوہری بجلی گھروں کا اوسط لوڈ فیکٹر 93 فیصد رہا۔ لوڈ فیکٹر سے مراد یہ ہے کہ بجلی گھر اپنی زیادہ سے زیادہ ممکنہ پیداواری صلاحیت کے مقابلے میں حقیقتاً کتنی بجلی پیدا کر رہا ہے۔ تاہم، مستقل طور پر بند کیے جانے اور ختم کرنے کے مرحلے میں داخل ہونے والے جوہری ری ایکٹروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ آئی اے ای اے کے مطابق، 2025 کے اختتام تک 21 رکن ممالک میں بجلی پیدا کرنے والے 218 جوہری ری ایکٹر بند کیے جا چکے تھے اور انہیں ختم کرنے کا عمل جاری تھا۔ ان میں سے 23 ری ایکٹروں کو مکمل طور پر ختم کیا جا چکا تھا۔
ادارے نے پرانے جوہری بجلی گھروں کو بند کرنے اور ختم کرنے سے متعلق مالیاتی اور تکنیکی مشکلات کی بھی نشاندہی کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خاص طور پر ان ممالک کو زیادہ دشواری پیش آتی ہے جہاں مالی وسائل اور تکنیکی مہارت محدود ہیں۔ ایسے ممالک کے لیے جوہری بجلی گھروں کو محفوظ اور مؤثر طریقے سے ختم کرنے کی حکمت عملیوں پر عمل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے کئی ممالک نئے جوہری بجلی گھر تعمیر کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، 2025 کے اختتام تک 15 ممالک میں 72 جوہری ری ایکٹروں کی تعمیر جاری تھی۔ ان کی مجموعی پیداواری صلاحیت 77.2 گیگاواٹ بتائی گئی ہے۔
آئی اے ای اے نے جوہری توانائی کے شعبے کو وسعت دینے میں درپیش دیگر مشکلات میں سرمایہ کاری کے حصول، منصوبوں کی لاگت کم کرنے اور ضابطوں میں یکسانیت پیدا کرنے کو بھی اہم قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جوہری توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ممالک کو ایک متوازن حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ اس میں نئے ری ایکٹروں کی تعمیر کے ساتھ موجودہ بجلی گھروں کی دیکھ بھال، ان کی عملی مدت میں توسیع اور اپنی عمر پوری کرنے والے ری ایکٹروں کو محفوظ طریقے سے بند کرنے کے اخراجات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔