نئی دہلی: ذرائع کے مطابق منگل کی شام بحیرۂ عرب کے شمالی حصے میں بھارتی بحریہ کے ایک جہاز سے ٹکرانے والا پاکستانی بحری جہاز پی این ایس حنین (PNS Hunain) تھا، جو پاکستان نیوی کا آف شور پیٹرول ویسل ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ 15 ستمبر کو اس وقت پیش آیا جب پاکستانی بحری جہاز شمالی بحیرۂ عرب میں معمول کی نگرانی پر مامور بھارتی بحریہ کے ایک فرنٹ لائن جنگی جہاز کے قریب پہنچا۔ پاکستانی جہاز تیز رفتاری سے بھارتی جہاز کے قریب آیا اور مبینہ طور پر غیر پیشہ ورانہ اور غیر محفوظ انداز میں سمت تبدیل کی، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں کے درمیان ٹکر ہوگئی۔ واقعے میں کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
واقعے کے بعد بھارت نے بدھ کو نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کرکے پاکستانی بحری یونٹ کے مبینہ ’’ناقابل قبول اور غیر پیشہ ورانہ طرز عمل‘‘ پر سخت احتجاج درج کرایا۔
بھارت کا پاکستان سے وضاحت کا مطالبہ
بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ نئی دہلی میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا اور سمندر میں پاکستانی بحری یونٹ کے ایسے طرز عمل پر سخت احتجاج کیا گیا جس کے نتیجے میں بھارتی بحریہ کے ایک جہاز سے ٹکر ہوئی۔
وزارت خارجہ کے مطابق یہ واقعہ بین الاقوامی سمندری حدود میں پیش آیا اور اس میں کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ تاہم، بھارت نے کہا کہ پاکستانی بحری جہاز کا طرز عمل اپریل 1991 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی مشقوں، نقل و حرکت اور دستوں کی پیشگی اطلاع سے متعلق معاہدے کے آرٹیکل 10 کی ’’براہ راست خلاف ورزی‘‘ ہے۔
آئندہ ایسے واقعات روکنے پر زور
بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستانی ناظم الامور سے کہا کہ وہ پاکستان کے متعلقہ حکام تک یہ پیغام پہنچائیں کہ تمام فوجی یونٹس سمندر میں مناسب احتیاط برتیں اور متعلقہ دوطرفہ معاہدوں کی پابندی کریں، تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔
بھارت نے اسلام آباد میں اپنے ناظم الامور کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ پاکستان کی وزارت خارجہ کے سامنے اسی معاملے پر احتجاج درج کرائیں۔