پاکستانی کاروباری رہنماؤں کا بجلی کے نرخوں میں بڑی کمی کا مطالبہ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 01-10-2026
پاکستانی کاروباری رہنماؤں کا بجلی کے نرخوں میں بڑی کمی کا مطالبہ
پاکستانی کاروباری رہنماؤں کا بجلی کے نرخوں میں بڑی کمی کا مطالبہ

 



حیدرآباد۔:پاکستان کے کاروباری رہنماؤں نے بجلی کی قیمتوں میں بڑی کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ توانائی کی بلند لاگت کے باعث مقامی صنعتیں خطے کے دیگر ممالک کے کاروبار کے مقابلے میں مسابقت میں پیچھے رہ رہی ہیں۔ڈان میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے پیٹرن ان چیف ایس ایم تنویر نے کہا کہ پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے بجلی کی لاگت تقریباً 17 سینٹ سے کم ہو کر 12 سینٹ ہو گئی ہے۔ تاہم یہ اب بھی خطے کے بعض ممالک میں وصول کیے جانے والے تقریباً 7 سینٹ کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

حیدرآباد میں استقبالیہ تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے تنویر نے کہا کہ اقتصادی ترقی اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے حکومت کو توانائی کی لاگت میں مزید کمی کرنا ہوگی۔تنویر نے متعدد ٹیکسوں بلند پالیسی ریٹ ایندھن کی قلت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایف بی آر کے افسران فیکٹریوں میں داخل ہو کر کاروباری افراد کو ہراساں کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کاروباری افراد کو ٹیکس ادا کرنا ہوگا کیونکہ معیشت کو چلانے کے لیے ٹیکس آمدنی ضروری ہے۔

ڈان کے مطابق تنویر نے جاری جنگوں کو مہنگائی سے بھی جوڑا اور کہا کہ طویل عرصے تک جاری رہنے والے تنازعات کی وجہ سے بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے دھابیجی اور خیرپور کی طرز پر مزید خصوصی اقتصادی زونز قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے حیدرآباد کی کاروباری برادری کو یقین دلایا کہ تنظیم ان کے مسائل کے حل کے لیے کوششوں کی حمایت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ حیدرآباد میں کارگو ریلوے سروس شروع کرنے کے امکان پر وفاقی وزیر ریلوے سے بات کریں گے۔

حیدرآباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کے سبکدوش ہونے والے صدر سلیم عمر میمن نے کہا کہ کاروباری شعبہ پاکستان کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ تاہم کاروباری افراد کو آسان ٹیکس نظام اور بہتر بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔نو منتخب صدر ندیم صدیقی نے کہا کہ حیدرآباد کا سائٹ صنعتی علاقہ صنعتی پیداوار کے ذریعے اندازاً 120 ارب سے 200 ارب پاکستانی روپے کی آمدنی پیدا کرتا ہے۔ تاہم ڈان کے مطابق انہوں نے کہا کہ ناقص بنیادی ڈھانچہ اس علاقے کی صلاحیت کو محدود کر رہا ہے اور اسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔کاروباری رہنماؤں نے حکومت پر زور دیا کہ حیدرآباد میں صنعتی سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے تاکہ مقامی کاروبار کو فروغ ملے اور معاشی سرگرمیوں م