عمان 2030 تک گرین ہائیڈروجن برآمد کرنے کی تیاری میں

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 29-09-2026
عمان 2030 تک گرین ہائیڈروجن برآمد کرنے کی تیاری میں
عمان 2030 تک گرین ہائیڈروجن برآمد کرنے کی تیاری میں

 



نئی دہلی: ہندوستان میں عمان کے سفیر عیسیٰ صالح عبداللہ الشیبانی نے قابل تجدید توانائی اور گرین ہائیڈروجن کے شعبے میں عمان کی ترجیحات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ملک نے گرین ہائیڈروجن کے لیے پالیسی تیار کی ہے اور 2030 تک اسے برآمد کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کی سمت میں کام کر رہا ہے۔ دہلی میں پائیدار ایوی ایشن فیول (ایس اے ایف) کانکلیو کے موقع پر اے این آئی سے بات کرتے ہوئے الشیبانی نے کہا کہ عمان نے قابل تجدید توانائی کے لیے اہداف مقرر کیے ہیں، جن میں گرین ہائیڈروجن بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے گرین ہائیڈروجن کے لیے اپنی پالیسی بنائی ہے۔ عمان 2030 تک اسے برآمد کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ کانکلیو میں ایندھن کے مختلف متبادل ذرائع اور ہندوستان و عمان کے درمیان تعاون کے ممکنہ شعبوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

ہندوستان بھی صاف توانائی کی جانب منتقلی کے تحت گرین ہائیڈروجن پر توجہ دے رہا ہے۔ نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت کے مطابق ’نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن‘ کا مقصد ہندوستان کو گرین ہائیڈروجن اور اس سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی پیداوار، استعمال اور برآمد کا عالمی مرکز بنانا ہے۔ ہندوستان اور عمان نے توانائی کی منتقلی کو دوطرفہ تعاون کے ایک اہم شعبے کے طور پر بھی نشان زد کیا ہے۔ دسمبر 2025 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے عمان دورے کے دوران جاری مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے عمان وژن 2040 اور ہندوستان کے ’وکست بھارت 2047‘ کے درمیان ہم آہنگی کا ذکر کیا تھا۔

دونوں جانب سے نئی اور قابل تجدید توانائی، گرین ہائیڈروجن اور گرین امونیا سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ عمان کے ہوا بازی کے شعبے میں پائیدار ایوی ایشن فیول متعارف کرانے کے منصوبوں کے بارے میں الشیبانی نے کہا کہ ’عمان وژن 2040‘ اور ’ایئر وژن 2040‘ کے تحت اس سلسلے میں پالیسیوں پر بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسمان کو صاف ستھرا بنانے اور ہوا بازی کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے پالیسیاں تیار کی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں دیگر ممالک کے ساتھ بھی تعاون پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ نیٹ زیرو کے ہدف تک پہنچا جا سکے۔ ہندوستان بھی ایس اے ایف کے شعبے میں پیش رفت کر رہا ہے۔

شہری ہوا بازی کی وزارت نے جولائی میں ایس اے ایف کی پیداوار، سرٹیفیکیشن اور سپلائی چین کی تیاری کا جائزہ لیا تھا۔ وزارت کے مطابق متعلقہ ادارے 2027 سے ایس اے ایف کی بروقت دستیابی یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں، جبکہ ایس اے ایف سے متعلق مسودہ پالیسی بھی آخری مراحل میں ہے۔ مرکزی حکومت نے بین الاقوامی پروازوں کے لیے ایس اے ایف کی آمیزش کے اشارتی اہداف بھی مقرر کیے ہیں۔ سرکاری بیان کے مطابق 2027 میں ایک فیصد، 2028 میں دو فیصد اور 2030 میں پانچ فیصد ایس اے ایف ملانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے حالیہ بیانات میں سمندری سلامتی اور ہندوستان کے لیے عمانی پانیوں کی اہمیت کے حوالے سے سوال پر عمانی سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک محفوظ بحری آمدورفت کے اصول پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’محفوظ آمدورفت ہماری حکومت اور ہندوستانی حکومت کا مقصد ہے۔ ہم اس اصول پر متفق ہیں کہ سلامتی، امن اور مذاکرات بہت سے تنازعات کے حل کا مؤثر ذریعہ ہیں۔‘‘ اس سے قبل ہفتے کے روز وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خلیج، بحیرہ احمر اور بحیرہ اسود سمیت مختلف سمندری علاقوں میں تجارتی جہازوں اور ملاحوں پر ہونے والے حملوں پر تشویش ظاہر کی تھی۔

جے شنکر نے کہا تھا کہ ایسے حملوں میں ہندوستانی ملاحوں کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے افراد بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور جہازوں و ملاحوں کو نشانہ بنانا ’’مکمل طور پر ناقابل قبول‘‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے لائبیریا اور 23 دیگر شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر ایسے حملوں کے خلاف عالمی رائے عامہ تشکیل دینے کی ایک پہل میں شمولیت اختیار کی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ جہازوں اور ملاحوں کی سلامتی کو کسی صورت متاثر نہیں ہونے دینا چاہیے اور بین الاقوامی قانون کی مکمل پابندی اس کوشش کا اہم حصہ ہے۔ ’انڈیا ایس اے ایف کانکلیو اینڈ ایوارڈز 2026‘ 28 اور 29 ستمبر کو نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقد ہو رہا ہے۔ تقریب کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق دو روزہ کانکلیو کا مقصد ہندوستان میں پائیدار ایوی ایشن فیول کے استعمال، پیداوار اور اس سے متعلق پالیسی سازی کو تیز کرنا ہے۔