نئی دہلی: ہندوستان نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے جموں و کشمیر سے متعلق بیان پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم کو ہندوستان کے داخلی معاملات پر تبصرہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ یہ ردعمل نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر او آئی سی کے نام نہاد رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے بعد سامنے آیا ہے۔ وزارت خارجہ نے 57 رکنی تنظیم اور پاکستان دونوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سیاسی مفادات سے متاثرہ پروپیگنڈے کی مسلسل حمایت او آئی سی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا، ’’ہندوستان نام نہاد او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کے مشترکہ اعلامیے میں ہندوستان سے متعلق غیر ضروری اور حقائق کے خلاف حوالوں کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے ہندوستان کے دیرینہ مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ او آئی سی کو ہندوستان کے ایسے معاملات پر رائے دینے کا کوئی حق نہیں ہے جو مکمل طور پر ہندوستان کے داخلی معاملات ہیں۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر اور لداخ کے پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے ہندوستان کا اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصہ ہیں اور سیاسی مقاصد کے تحت کسی بیانیے کو بار بار دہرانے سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوسکتی۔
وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ ایسے موقف کی حمایت کرکے او آئی سی عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا خطرہ مول لے رہی ہے۔ وزارت نے کہا کہ ’’ایسے مفاد پر مبنی بیانیوں کی بار بار حمایت او آئی سی کی ساکھ پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔‘‘ نئی دہلی نے او آئی سی کے اندر قراردادوں اور بیانات کو آگے بڑھانے میں پاکستان کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے تنظیم سے کہا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کو ہندوستان مخالف مہمات کے لیے استعمال ہونے سے روکے اور خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ یعنی سرحد پار دہشت گردی پر توجہ دے۔
وزارت خارجہ نے کہا، ’’پاکستان کو من گھڑت اور مفاد پر مبنی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنے کے بجائے او آئی سی کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ پاکستان کو، جس کا دہشت گردی کی حمایت اور سرپرستی کا ایک دستاویزی ریکارڈ ہے، اپنے گریبان میں جھانکنے اور اپنے زیر کنٹرول علاقوں سے جاری دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کا مشورہ دے۔‘‘ ہندوستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ ملک کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ نئی دہلی او آئی سی کی جانب سے کشمیر سے متعلق مشترکہ بیانات اور قراردادوں کو ہندوستان کے داخلی معاملات میں ناقابل قبول مداخلت قرار دیتا رہا ہے۔
یہ ردعمل او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کے بعد آیا، جس میں پاکستان، آذربائیجان، ترکی، سعودی عرب اور نائجر شامل ہیں۔ ہندوستانی موقف کے مطابق گروپ نے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے سرحد پار دہشت گردی کے معاملے کو نظر انداز کیا۔ رابطہ گروپ نے پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مئی 2025 میں ہندوستان کی جانب سے کی گئی انسداد دہشت گردی کی فوجی کارروائی کی مذمت کی۔ ہندوستان کے مطابق یہ کارروائی پہلگام میں ہونے والے اس دہشت گردانہ حملے کے جواب میں کی گئی تھی جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
گروپ نے علاقائی امن کے لیے خطرے کا بھی دعویٰ کیا اور پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر اور پاکستان کے زیر قبضہ گلگت بلتستان کے بارے میں ہندوستانی رہنماؤں کے بیانات کو ’’غیر ضروری‘‘ اور ’’غیر ذمہ دارانہ‘‘ قرار دیا۔ دوسری جانب پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، سیاحت کی کمزور سرگرمیوں اور طویل عرصے سے جاری مواصلاتی پابندیوں کے باعث مقامی آبادی کو معاشی اور سماجی مشکلات کا سامنا بتایا جا رہا ہے۔ پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے رہائشی سعد حمید نے کہا کہ حالات دن بہ دن مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق سرکاری ملازمت اور سیاحت علاقے میں روزگار کے بڑے ذرائع ہیں۔
حمید نے کہا، ’’حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن ہے اور مہنگائی بھی بڑھ رہی ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے عام لوگوں کے اخراجات مزید بڑھا دیے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’90 دن سے زیادہ ہوچکے ہیں اور اب بھی پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ سروس نہیں ہے۔‘‘ ان کے مطابق موبائل سروس میں رکاوٹوں کی وجہ سے لوگوں کے لیے فون کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ ان معاشی مشکلات کے ساتھ جون سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں متعدد احتجاج بھی ہوئے ہیں۔ مظاہرین نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، بجلی کے اخراجات، تعلیم اور دیگر بنیادی مسائل پر تشویش ظاہر کی ہے۔
پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کی ہیومن رائٹس کونسل نے حال ہی میں مسلسل 100 دن سے جاری احتجاج اور بدامنی پر تشویش ظاہر کی، خاص طور پر راولا کوٹ اور پونچھ و سدھنوتی اضلاع کی صورت حال کا ذکر کیا۔ کونسل کے مطابق طویل عرصے سے جاری یہ صورتحال علاقے میں غیر یقینی پیدا کر رہی ہے اور اس کے وسیع اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ کونسل نے کہا کہ 100 دن سے جاری بدامنی کو کافی سمجھا جانا چاہیے اور بامعنی مذاکرات میں مزید تاخیر عوام میں مایوسی، عدم اعتماد اور بے چینی کو بڑھا سکتی ہے۔ کونسل نے سوال اٹھایا کہ آخر عوام کو مزید کتنے عرصے تک غیر یقینی اور بدامنی کے ماحول میں رہنا ہوگا، اور اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات کا وقت اب آچکا ہے۔