نئی دہلی: مرکزی وزیر خزانہ اور کارپوریٹ امور نرملا سیتارمن نے جمعہ کو کہا کہ ہندوستان اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات میں غیر محصولاتی رکاوٹیں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتا ہوا تجارتی عدم توازن کئی برسوں کی بات چیت کے باوجود ہندوستان کے لیے مسلسل تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔
وزیر خزانہ نے یہ بات تھائی لینڈ کے شہر بینکاک میں عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سالانہ اجلاس کے موقع پر اٹلانٹک کونسل کے مائیکل کوگل مین کے ساتھ ’’ہندوستان کی معاشی برتری‘‘ کے موضوع پر ایک گفتگو کے دوران کہی۔ چین کے ساتھ تجارتی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے نرملا سیتارمن نے کہا کہ غیر محصولاتی رکاوٹیں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کی سب سے بڑی مشکل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج دنیا کے کئی ممالک بھاری تجارتی عدم توازن کو دیکھتے ہوئے محصولات عائد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اس صورت حال کو مزید برداشت نہیں کرسکتے، اس لیے دوسرے ملک کو عدم توازن درست کرنا ہوگا، ورنہ اس کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ تاہم، ہندوستان نے چین کے ساتھ معاملے میں کبھی یہ طریقہ اختیار نہیں کیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ چین کے ساتھ تجارتی توازن ہندوستان کے خلاف ہے اور یہ فرق تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کئی برسوں سے اس مسئلے کو اٹھاتا رہا ہے، لیکن اسے چین کی منڈی تک رسائی نہیں مل رہی، حتیٰ کہ ان اشیا کے لیے بھی نہیں جن کی وہاں فروخت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ نرملا سیتارمن کے مطابق، کئی اہم شعبوں میں ہندوستانی مصنوعات عالمی سطح پر اپنی مسابقتی صلاحیت ثابت کرچکی ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں چین میں مسلسل رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہندوستان عام استعمال کی ادویات، گائے اور بھینس کے گوشت، سبزیوں اور جلد خراب ہونے والی غذائی اشیا سمیت متعدد مصنوعات کی عالمی منڈی میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ چین میں ان اشیا کے لیے بہت زیادہ امکانات موجود ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہندوستانی مصنوعات کو چینی منڈی تک رسائی دلانے کے لیے کوشش کرتے کرتے ایک دہائی گزر چکی ہے، لیکن غیر محصولاتی رکاوٹیں برقرار ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ چین پودوں اور زرعی مصنوعات کی صحت و سلامتی سے متعلق ضابطوں سمیت مختلف وجوہات کی بنیاد پر غیر محصولاتی رکاوٹیں عائد کرتا ہے۔
ان معاملات کی مناسب جانچ ہوسکتی ہے اور دونوں ملک بیٹھ کر بات چیت بھی کرسکتے ہیں، لیکن اس سمت میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہندوستان تجارتی تنازعات حل کرنے کے لیے اچانک جوابی محصولات عائد کرنے کے بجائے بات چیت کو ترجیح دیتا ہے۔ ان کے بقول، مذاکرات کا عمل بعض اوقات تھکا دینے والا ہوتا ہے، لیکن ہندوستان اسی راستے پر چلتا ہے۔ وہ دوسرے ملک کی غیر محصولاتی رکاوٹوں کے جواب میں جوابی محصولات یا اسی طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرنے سے گریز کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور ہندوستان کے درمیان پائے جانے والے تجارتی عدم توازن کو درست کرنا اسی لیے مشکل ثابت ہو رہا ہے۔
چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کے علاوہ نرملا سیتارمن نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے وزیر تجارت نے ایک دو روز پہلے ہی اس امید کا اظہار کیا تھا کہ دونوں ملک جلد اس معاہدے پر دستخط کرنا چاہتے ہیں۔
نرملا سیتارمن نے کہا، ’’مجھے امید ہے کہ عالمی تجارت اور ہندوستان و امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات کے مفاد میں یہ معاہدہ جلد از جلد طے پا جائے گا۔‘‘ وزیر خزانہ نے کثیر ملکی تعاون کے تئیں ہندوستان کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک طرف عالمی سطح پر مختلف ملکوں کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہے، تو دوسری طرف اہم تجارتی شراکت داروں کے ساتھ براہ راست تجارتی معاہدوں کے لیے بھی سرگرم ہے۔ ان شراکت داروں میں متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا، کینیڈا اور یورپی آزاد تجارتی انجمن (ای ایف ٹی اے) کے رکن ممالک شامل ہیں، جبکہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔