نرملا سیتارمن کی سنگاپور میں عالمی مالیاتی اداروں کے سربراہان سے ملاقات

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 12-10-2026
نرملا سیتارمن کی سنگاپور میں عالمی مالیاتی اداروں کے سربراہان سے ملاقات
نرملا سیتارمن کی سنگاپور میں عالمی مالیاتی اداروں کے سربراہان سے ملاقات

 



سنگاپور: ہندوستان کی مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے سنگاپور میں پانچ عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاری کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں ہندوستان میں سرمایہ کاری اور مالیاتی تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بنیادی ڈھانچے کی مالی اعانت، نجی قرض، مصنوعی ذہانت، قابل تجدید توانائی اور رہائشی مکانات کے لیے قرض کی فراہمی جیسے شعبے گفتگو کا خاص موضوع رہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری معلومات کے مطابق، ان ملاقاتوں میں سمیتومو مٹسوئی بینکنگ کارپوریشن (ایس ایم بی سی)، اسکینڈینیوسکا اینسکیلڈا بینکن (ایس ای بی)، ایچ پی ایس انویسٹمنٹ پارٹنرز، بی کیپٹل گروپ اور مٹسوبشی یو ایف جے فنانشل گروپ (ایم یو ایف جی) کے نمائندے شامل تھے۔

وزیر خزانہ نے ایچ پی ایس انویسٹمنٹ پارٹنرز کے چیف ایگزیکٹیو افسر اسکاٹ کپنک کے ساتھ ملاقات میں نجی قرض، منظم مالیاتی نظام اور کاروباری اداروں کے لیے طویل مدتی مالی اعانت پر تبادلہ خیال کیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق، نرملا سیتارمن نے کمپنی کو گفٹ انٹرنیشنل فنانشل سروسز سینٹر (گفٹ آئی ایف ایس سی) میں فنڈ قائم کرنے کے امکانات تلاش کرنے اور نیشنل انویسٹمنٹ اینڈ انفراسٹرکچر فنڈ (این آئی آئی ایف) کے ساتھ تعاون کرنے کی ترغیب دی، تاکہ ہندوستان میں بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبوں کے لیے سرمایہ جمع کیا جاسکے۔

وزارت کے مطابق، ایچ پی ایس نے اس بات پر زور دیا کہ قرض کے ذریعے سرمایہ فراہم کرکے حصص کی شکل میں کی جانے والی سرمایہ کاری کو مزید مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔ ایم یو ایف جی کے ایشیا بحرالکاہل خطے کے چیف ایگزیکٹیو یوکینوبو ساکی کے ساتھ ملاقات میں ہندوستان میں بینک کی سرگرمیوں کو وسعت دینے پر بات ہوئی۔ اس میں سرمایہ بازار، بنیادی ڈھانچے اور منصوبوں کی مالی اعانت، قابل تجدید توانائی اور کمپنیوں کے انضمام و حصول کے لیے قرض فراہم کرنے جیسے شعبے شامل تھے۔ نرملا سیتارمن نے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کی غرض سے نیشنل بینک فار فنانسنگ انفراسٹرکچر اینڈ ڈیولپمنٹ (ناب فڈ) کے ساتھ زیادہ تعاون کرنے کی بھی ترغیب دی۔

اس ملاقات میں ہندوستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو مالی مدد دینے اور بازار میں شفافیت و بہتر انتظامی نظام کو فروغ دینے کے لیے ضابطوں سے متعلق معلوماتی پروگرام منعقد کرنے پر بھی گفتگو ہوئی۔ ایس ای بی کے چیئرمین مارکس والنبرگ کے ساتھ ملاقات میں ہندوستان کی اقتصادی صورت حال اور یورپی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے سرمایہ کاری بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایس ای بی کے وفد نے توانائی، ڈیٹا سینٹرز، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، ٹیکس خدمات، صحت، مالیاتی خدمات اور رہائشی مکانات کے لیے قرض کی فراہمی میں سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی کی۔

اس ملاقات میں پائیدار مالیات، غیر بینکاری مالیاتی کمپنیوں میں نجی سرمایہ کاری، ماحول دوست معیشت کی جانب منتقلی اور ہنر مندی کی ترقی جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔ وزیر خزانہ نے ایس ایم بی سی کے منیجنگ ایگزیکٹیو افسر اور ایشیا بحرالکاہل خطے کے شریک سربراہ راجیو کنن سے بھی ملاقات کی۔ اس میں ہندوستان میں بینک کی سرگرمیوں کو بڑھانے کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔

خاص طور پر سستے مکانات کے لیے قرض، غیر بینکاری مالیاتی کمپنیوں کو مالی اعانت، تجارتی مالیات اور دیگر ترجیحی شعبوں پر توجہ دی گئی۔ نرملا سیتارمن نے ایس ایم بی سی کو نیشنل انویسٹمنٹ اینڈ انفراسٹرکچر فنڈ اور گفٹ آئی ایف ایس سی کے ذریعے سرمایہ کاری اور مالی اعانت کے مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دی۔ اس سلسلے میں طیاروں کو لیز پر دینے کے کاروبار میں سرمایہ کاری کے امکانات بھی زیر غور آئے۔ اس کے علاوہ، بی کیپٹل گروپ کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹیو راج گنگولی کے ساتھ وزیر خزانہ کی بات چیت کا مرکز خودمختار مصنوعی ذہانت اور اس سے وابستہ وسیع تر نظام تھا۔ نرملا سیتارمن نے کہا کہ ہندوستان میں مصنوعی ذہانت کی خدمات کے شعبے میں عالمی سطح پر قیادت کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کمپنی کو بینکاری اور مالیاتی خدمات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے امکانات تلاش کرنے کی بھی ترغیب دی۔

وزارت خزانہ کے مطابق، بی کیپٹل گروپ نے سرمایہ کاروں کے لیے مستحکم کرنسی اور ٹیکس سے متعلق ایسی پالیسیوں کی اہمیت پر زور دیا جو واضح، شفاف اور قابل پیش گوئی ہوں۔ ان تمام ملاقاتوں کا بنیادی مقصد ہندوستانی کاروباری اداروں اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے مالی وسائل کے نئے ذرائع تلاش کرنا اور ٹیکنالوجی، توانائی سمیت مختلف شعبوں میں عالمی سرمایہ کاری کو راغب کرنا تھا۔ ان بات چیت کے ذریعے حکومت ہندوستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کو عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے پیش کرنے اور طویل مدتی مالیاتی تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کررہی ہے۔