روس کے خلاف یورپی یونین کی نئی پابندیاں جنگ ختم کرنے کے لیے ضروری قدم ہیں: زیلنسکی

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 13-10-2026
روس کے خلاف یورپی یونین کی نئی پابندیاں جنگ ختم کرنے کے لیے ضروری قدم ہیں: زیلنسکی
روس کے خلاف یورپی یونین کی نئی پابندیاں جنگ ختم کرنے کے لیے ضروری قدم ہیں: زیلنسکی

 



کیف: یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے پیر کو روس کے فوجی اور صنعتی شعبے کو نشانہ بنانے والی یورپی یونین کی نئی پابندیوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں جاری جنگ ختم کرنے کی سمت میں ’’درست اور ضروری پیغام‘‘ قرار دیا۔ زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین اور یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کا نئی پابندیوں کی منظوری پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے لکھا، ’’روس کے فوجی اور صنعتی شعبے کے خلاف یورپی یونین کے نئے پابندیوں کے پیکیج کو منظور کرنے پر یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین اور یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کا شکریہ۔‘‘ زیلنسکی کا یہ بیان یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے روس کے فوجی اور صنعتی شعبے اور مقبوضہ یوکرینی علاقوں میں انتخابات سے وابستہ افراد کو نشانہ بنانے والی تقریباً 1600 نئی پابندیوں کی تفصیلات پیش کیں۔

کالاس نے کہا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے ماسکو پر مسلسل اقتصادی دباؤ برقرار رکھنا ضروری ہے۔ زیلنسکی نے روس کی جانب سے یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حالیہ حملوں کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے دونوں متحارب ممالک کے درمیان ’’توانائی کے شعبے میں جنگ بندی‘‘ کا اعلان کیے جانے کے محض ایک دن بعد یہ حملے کیے گئے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں فریق اس جنگ بندی پر متفق ہیں۔ یوکرینی صدر نے روسی حملوں کو یوکرین کے عوام اور ان کی آبادیوں کے خلاف دہشت گردانہ فضائی کارروائیوں کا تسلسل قرار دیا۔

انہوں نے کہا، ’’اب یہ بات تیزی سے واضح ہوتی جا رہی ہے کہ روس امریکہ کی جانب سے تجویز کردہ توانائی کے شعبے میں جنگ بندی پر اتفاق نہیں کرنا چاہتا اور ہمارے عوام اور آبادیوں پر دہشت گردانہ فضائی حملے جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ آج ہی روس نے یوکرین میں توانائی کی چھ تنصیبات پر حملے کیے۔ ملک بھر میں 33 افراد زخمی ہوئے۔ جب روس کو اپنی جنگی مشین کے لیے آمدنی بڑھنے کا امکان نظر آتا ہے تو یہی کچھ ہوتا ہے۔‘‘ زیلنسکی نے روس اور امریکہ کے درمیان ڈیزل کی فراہمی کے نئے معاہدے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس سے روس کو اپنی جنگی مشین کے لیے مزید وسائل حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کی پابندیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ چار سال سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ ختم کرنے کے لیے یہ ایک ضروری قدم ہے۔

انہوں نے مزید کہا، ’’اس لیے روسی اداروں پر دباؤ بڑھانا، خصوصاً بیلسٹک میزائلوں اور ’شاہد‘ ڈرونز کی تیاری میں شامل اداروں پر، درست اور ضروری پیغام ہے، بشرطیکہ ہم واقعی روس کی جنگ ختم کرنے کے لیے سنجیدہ ہوں۔ ان تمام لوگوں کا شکریہ جو طاقت کے ذریعے امن کو ممکن بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘‘ اس سے پہلے یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے روس کے فوجی اور صنعتی شعبے کے خلاف نئی پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ یورپی یونین نے ایک ہی بار میں پابندیوں کی فہرست میں اب تک کا سب سے بڑا اضافہ کیا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ روس پر دباؤ بڑھایا جاتا رہے گا تاکہ وہ مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار ہو۔ کوسٹا نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ یوکرین خطے میں امن قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہے اور یورپی یونین اس مقصد کے لیے کیف کی غیر متزلزل حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے روس کی جانب سے یوکرین پر بڑھتے ہوئے فوجی حملوں اور یورپی یونین کے رکن ممالک کو نشانہ بنانے والی غیر روایتی کارروائیوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے لکھا، ’’یوکرین سے زیادہ کوئی بھی امن نہیں چاہتا۔ یورپی یونین متحد ہے اور یوکرین کی حمایت اور روس کی جارحانہ جنگ ختم کرنے کی تمام کوششوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ اس کے باوجود روس اپنی جارحیت بڑھا رہا ہے، یوکرین میں شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر غیر ذمہ دارانہ حملوں میں شدت لا رہا ہے اور یورپی یونین کے رکن ممالک کو نشانہ بنانے والی غیر روایتی کارروائیاں بھی کر رہا ہے۔‘‘

کوسٹا نے مزید کہا، ’’روس کے ان اقدامات کا جواب دیا جائے گا۔ آج یورپی یونین کے رکن ممالک نے روس کے فوجی اور صنعتی شعبے کو نشانہ بنانے والی تقریباً 1600 نئی پابندیوں کی منظوری دی ہے۔ روس کی جانب سے یوکرین پر مکمل پیمانے پر حملہ شروع کیے جانے کے بعد پابندیوں کی فہرست میں یہ اب تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ روس کے اقدامات ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔ ہم دباؤ بڑھاتے رہیں گے، یہاں تک کہ روس مذاکرات کی میز پر آئے اور جنگ ختم کرنے کے لیے اپنی حقیقی سنجیدگی کا ثبوت دے۔‘‘ یورپی کونسل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، یورپی یونین نے 1,569 افراد اور اداروں کے خلاف پابندیوں کی منظوری دی ہے۔

ان میں روس کی 826 کمپنیاں اور ان کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران کے طور پر کام کرنے والے 743 افراد شامل ہیں۔ تازہ ترین پابندیوں کے بعد یوکرین کی علاقائی سالمیت کی حمایت میں یورپی یونین کے پابندیوں کے نظام کے تحت فہرست میں شامل افراد اور اداروں کی مجموعی تعداد تقریباً 4,600 ہو گئی ہے۔ ان پابندیوں کا خاص نشانہ روس کے فوجی اور صنعتی نظام کو اہم سامان فراہم کرنے والی درمیانی سطح کی کمپنیاں ہیں۔ یورپی کونسل کے مطابق، یہ کمپنیاں مجموعی طور پر سالانہ کم از کم 20 ارب یورو کا کاروبار کرتی ہیں اور ان میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد کام کرتے ہیں۔ پابندیوں کی فہرست میں شامل کمپنیاں روس کے جدید ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے پرزے فراہم کرتی ہیں۔

ان ہتھیاروں میں میزائل، بغیر پائلٹ کے فضائی طیارے اور جنگی طیارے شامل ہیں۔ فراہم کیے جانے والے پرزوں میں سیمی کنڈکٹر، مائیکرو سرکٹ، کمپیوٹر، مواصلاتی آلات، ریڈار نظام، ہوابازی اور میزائل ٹیکنالوجی، دھماکہ خیز مواد، گولہ بارود، بصری آلات اور سمت معلوم کرنے کے نظام شامل ہیں۔

یورپی یونین نے کہا کہ یہ پابندیاں یوکرین کے خلاف روس کی مسلسل جارحیت، بالخصوص شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی فوجی کارروائیوں اور ان کے نتیجے میں عام شہریوں کو پہنچنے والی تکلیف کے جواب میں عائد کی گئی ہیں۔ پابندیوں کے تحت فہرست میں شامل اداروں کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ افراد کے یورپی یونین میں داخلے اور سفر پر پابندی ہوگی۔ ان افراد اور اداروں کو براہ راست یا بالواسطہ مالی وسائل یا اقتصادی وسائل فراہم کرنا بھی ممنوع ہوگا۔