نئی دہلی: برطانیہ کے تجارتی وفد کے دورۂ ہندوستان کے دوران ایک ارب پاؤنڈ سے زیادہ کے تجارتی معاہدوں کا اعلان، مصنوعی ذہانت کی تحقیق کے لیے 5 کروڑ پاؤنڈ کی سرمایہ کاری برطانیہ کے ایک بڑے تجارتی وفد نے ہندوستان کے دورے کے دوران ایک ارب پاؤنڈ سے زیادہ مالیت کے نئے تجارتی معاہدوں کا اعلان کیا ہے۔ ان میں برطانیہ میں مصنوعی ذہانت کی تحقیق کے لیے 5 کروڑ پاؤنڈ کی سرمایہ کاری اور ہوا بازی کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی مینزیز ایوی ایشن کے کاروبار میں توسیع شامل ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی آزاد تجارتی معاہدے کے نفاذ کے بعد تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔
برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، 100 سے زیادہ کاروباری اداروں کے نمائندوں پر مشتمل برطانوی تجارتی وفد ہندوستان پہنچ رہا ہے۔ اس وفد میں برطانیہ کے وزیر تجارت، اسکاٹ لینڈ کے سکریٹری، ماحولیات، خوراک اور دیہی امور کی سکریٹری، شمالی انگلینڈ کے سات میئر اور ایک مشترکہ انتظامی ادارے کے سربراہ شامل ہیں۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ یہ تازہ اعلانات برطانیہ اور ہندوستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے سے پیدا ہونے والی پیش رفت کا حصہ ہیں۔
جولائی 2025 میں اس معاہدے پر دستخط کیے جانے کے بعد سے اب تک تقریباً 12 ارب پاؤنڈ مالیت کے تجارتی معاہدوں کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ اہم اعلانات میں میٹا فار ڈیٹا ٹیکنالوجیز (ایم ایف ڈی) کی جانب سے برطانیہ میں مصنوعی ذہانت کی تحقیق کے لیے 5 کروڑ پاؤنڈ کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ اس کے علاوہ، برطانیہ کی ہوا بازی کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی مینزیز ایوی ایشن ہندوستان میں اپنے کاروبار کو وسعت دے کر 60 کروڑ پاؤنڈ سے زیادہ کی آمدنی حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس تجارتی دورے کا مقصد جدید صنعتی پیداوار، ٹیکنالوجی، ہوا بازی، تعلیم، زراعت اور کھانے پینے کی اشیا سمیت مختلف شعبوں میں کاروباری شراکت داری کو مضبوط بنانا اور دونوں ممالک کی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ برطانیہ کے وزیر تجارت جوناتھن رینالڈز نے کہا کہ آزاد تجارتی معاہدے نے علاقائی کاروباری اداروں کے لیے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔
ان کے مطابق، شمالی انگلینڈ کے میئر دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جس سے روزگار، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کو تقویت مل سکتی ہے۔ رینالڈز نے کہا، ’’جدید صنعتی پیداوار سے لے کر تعلیم تک، ہم دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں سے ایک ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات مزید گہرے کرنا چاہتے ہیں، تاکہ دونوں ممالک کے ہر علاقے میں کاروباری اداروں اور صارفین کو نئے مواقع حاصل ہوں۔‘‘ وفد میں اسکاٹ لینڈ اور برطانیہ کی خوراک اور مشروبات کی صنعتوں سے وابستہ اداروں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔
ان میں زراعت اور باغبانی کے فروغ کا بورڈ (اے ایچ ڈی بی)، برطانوی گوشت تیار کرنے والی کمپنیوں کی انجمن، فیور ٹری، کینڈامل، نیشنل فارمرز یونین، سالمن اسکاٹ لینڈ، اسکاچ وہسکی ایسوسی ایشن اور واکرز شارٹ بریڈ شامل ہیں۔ اسکاٹ لینڈ کے سکریٹری ڈگلس الیگزینڈر نے کہا کہ آزاد تجارتی معاہدے سے اسکاٹ لینڈ کے برآمد کنندگان، خصوصاً سامن مچھلی اور وہسکی تیار کرنے والوں کو نئے مواقع ملیں گے۔ اس کے ساتھ ہی اسکاٹ لینڈ میں بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا، ’’ہندوستان جیسی منڈیوں میں اسکاٹ لینڈ کی کامیابی کو برطانیہ کا حصہ ہونے کی وجہ سے حاصل ہونے والی طاقت، رسائی اور اثر و رسوخ سے تقویت ملتی ہے۔ اسکاٹ لینڈ کی برآمدات کے مواقع بڑھانے اور یہاں بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی سے ملک میں معاشی ترقی اور روزگار کے حقیقی فوائد حاصل ہوں گے۔‘‘
ماحولیات، خوراک اور دیہی امور کی سکریٹری انجیلا ایگل نے کہا کہ برطانوی حکومت کسانوں اور خوراک و مشروبات کی صنعت سے وابستہ کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، تاکہ تجارتی معاہدے میں کیے گئے وعدوں کو برآمدات کے حقیقی مواقع میں تبدیل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم خوراک اور مشروبات کی برآمد کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ ہندوستان میں موجود ہیں، تاکہ وہ اپنی بہترین مصنوعات پیش کر سکیں، نئے تجارتی تعلقات قائم کریں اور برطانیہ کے مختلف علاقوں کے لیے برآمدات کے نئے مواقع پیدا کر سکیں۔‘‘ دورے کے دوران جوناتھن رینالڈز نئی دہلی میں ہندوستان کے مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل سے ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنما برطانیہ اور ہندوستان کی مشترکہ اقتصادی و تجارتی کمیٹی (جیٹکو) کی مشترکہ صدارت بھی کریں گے۔
اس کے علاوہ، وہ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی جتیندر سنگھ کے ساتھ برطانیہ اور ہندوستان کی سائنس و اختراع کونسل کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کریں گے۔ ممبئی میں برطانوی وزیر تجارت مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے مختلف علاقوں کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوگی۔ وہ ایک تجارتی نمائش میں بھی شرکت کریں گے، جہاں برطانیہ کی مصنوعات اور خدمات پیش کی جائیں گی۔ یہ دورہ برطانیہ اور ہندوستان کے آزاد تجارتی معاہدے کے نافذ ہونے کے تین ماہ بعد ہو رہا ہے۔ برطانوی ہائی کمیشن کے بیان کے مطابق، اس معاہدے سے طویل مدت میں دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارت میں 25.5 ارب پاؤنڈ کا اضافہ متوقع ہے۔