اسرائیلی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ حماس کے حملہ آوروں اور انہیں بھیجنے والوں کا تعاقب کیا جائے گا۔ ان کے بقول وہ جہاں بھی ہوں اور جب بھی ہوں انہیں تلاش کیا جائے گا اور ان کے لیے چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔اس سے قبل اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ حملے میں ملوث 2 حملہ آور مارے گئے ہیں۔ تاہم دیگر ممکنہ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق فائرنگ کے واقعے کے بعد فوجی اہلکاروں اور اسرائیلی سرحدی پولیس نے الخلیل اور دیگر علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ فوج نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سکیورٹی فورسز نے حماس اور اسلامی جہاد سے وابستہ افراد سمیت تقریباً 70 مطلوب افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اس دوران ایم 16 رائفلوں اور کارلو سب مشین گنوں سمیت درجنوں ہتھیار اور دھماکہ خیز آلات بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ایک سنگین حملہ تھا۔ ان کے مطابق فوجیوں کی فوری کارروائی نے بڑے حملے اور شہریوں و سکیورٹی اہلکاروں کو مزید نقصان سے بچا لیا۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کی جانب سے استعمال کی گئی گاڑی سے بڑی مقدار میں گولہ بارود ملا ہے۔ ان کے بقول یہ گولہ بارود بڑے پیمانے پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔
ایمبولینس سروس کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والے 5 افراد میں سے 2 کی حالت نازک ہے۔ ایک شخص درمیانی درجے کے زخموں کا شکار ہے جبکہ 2 افراد کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب اسرائیل میں انتخابات ہونے میں صرف 5 دن باقی ہیں۔