نئی دہلی:، ہندوستان اور یورپی یونین نے آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر عمل درآمد سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ اس معاہدے پر دسمبر میں دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔ وزارت تجارت کی جانب سے پیر کو جاری ایک سرکاری بیان میں یہ اطلاع دی گئی۔ یہ بات چیت گزشتہ ہفتے وزارت تجارت کے سکریٹری راجیش اگروال کے برسلز دورے کے دوران ہوئی۔
اس موقع پر انہوں نے یورپی کمیشن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل فار ٹریڈ اینڈ اکنامک سکیورٹی کی ڈِٹے جول یورگنسن، ڈائریکٹوریٹ جنرل فار انٹرنیشنل پارٹنرشپس کے کوئن ڈونس اور ڈائریکٹوریٹ جنرل فار ٹیکسیشن اینڈ کسٹمز یونین کے گیراسیموس تھامس سے ملاقات کی۔ وزارت تجارت کے مطابق، ان ملاقاتوں میں کسٹم کے شعبے میں تعاون، تجارت کو آسان بنانے اور ہندوستان-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے پر عمل درآمد کی تیاریوں پر خاص طور سے بات ہوئی۔
بیان میں کہا گیا کہ دونوں فریقوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ کاروبار کو سہولت فراہم کرنے، لین دین کے اخراجات کم کرنے اور جائز تجارتی سرگرمیوں کی بلارکاوٹ نقل و حرکت یقینی بنانے کے لیے کسٹم کے طریقہ کار کو مؤثر، شفاف اور ڈیجیٹل نظام سے مربوط بنانا ضروری ہے۔ ہندوستان اور یورپی یونین نے 27 جنوری کو اس معاہدے کے لیے مذاکرات مکمل ہونے کا اعلان کیا تھا۔
اس معاہدے کے تحت چمڑے، کپڑے اور جواہرات و زیورات سمیت ہندوستان کے محنت پر مبنی کئی شعبوں کی مصنوعات کو یورپی منڈی میں ڈیوٹی فری یعنی درآمدی محصول کے بغیر رسائی مل سکے گی۔ وزارت نے یہ بھی بتایا کہ تجارت سکریٹری نے ہیرے کے کاروبار سے وابستہ افراد سے ملاقات کی، جن میں اینٹورپ کے ڈائمنڈ کاروباری نظام سے وابستہ نمائندے بھی شامل تھے۔
ان ملاقاتوں میں ہیروں کی عالمی سپلائی چین، سرٹیفکیشن اور ان کی اصل و نقل و حرکت کا سراغ لگانے کے تقاضوں، ذمہ دارانہ ذرائع سے ہیروں کی خریداری اور ہندوستان میں ہیرے کی بڑھتی ہوئی منڈی اور مینوفیکچرنگ کے شعبے سے پیدا ہونے والے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہندوستان اور بیلجیم نے جواہرات اور زیورات کے شعبے کو باہمی تعاون بڑھانے کے ایک اہم میدان کے طور پر شناخت کیا ہے۔ اس سلسلے میں اینٹورپ، ممبئی اور سورت کو ہیرے کے بڑے مراکز تسلیم کیا گیا ہے۔