نئی دہلی: صنعت سے وابستہ ماہرین نے کہا ہے کہ بین الاقوامی منڈیوں میں ہندوستانی چاول کی کھیپ مسترد ہونے کے واقعات کم کرنے کے لیے برآمد کنندگان کو کھیتوں کی سطح پر کیڑے مار ادویات کے استعمال کی نگرانی، چاول کی مکمل سپلائی چین کا ریکارڈ رکھنے اور جانچ کے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ ان معاملات میں لاپروائی سے برآمد کنندگان کو مالی نقصان پہنچنے کے ساتھ عالمی منڈیوں میں ہندوستان کی ساکھ بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
بھارت انٹرنیشنل رائس کانفرنس 2026 میں چاول کی برآمدات کے معیار اور سرٹیفکیشن سے متعلق ایک مذاکرے میں جانچ لیبارٹریوں، معائنہ کرنے والے اداروں اور برآمد کنندگان کے نمائندوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے آلودگی کو اس کے اصل مقام پر روکنا اور درآمد کرنے والے ہر ملک کے مخصوص ضوابط پر عمل کرنا ضروری ہے۔ ایس جی ایس انڈیا میں فوڈ ٹیسٹنگ سروسز کی سربراہ پوروی شاہ نے کہا کہ صنعت کو صرف جانچ کے بعد پیدا ہونے والے مسائل کا حل تلاش کرنے کے طریقے سے آگے بڑھ کر ممکنہ خطرات کی پہلے سے نشاندہی اور ان کی روک تھام پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے پوری سپلائی چین میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اے ایچ کے گروپ کے نائب صدر مرزا عالم نے بتایا کہ مالی سال 2024-25 اور 2025-26 کے دوران یورپی منڈیوں میں مسترد کی گئی چاول کی کھیپوں کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ 69 فیصد معاملات میں کیڑے مار ادویات کی باقیات اس کی وجہ تھیں، جبکہ 23 فیصد معاملات میں افلاٹاکسن اور دیگر مائیکوٹاکسن پائے گئے۔ افلاٹاکسن اور مائیکوٹاکسن ایسے زہریلے مادے ہیں جو بعض اقسام کی پھپھوندی سے پیدا ہوتے ہیں اور خوراک کو آلودہ کرسکتے ہیں۔
ای اے ایس کے سینئر منیجر آنند شرما نے کھیت سے بندرگاہ تک چاول کی مکمل نگرانی اور ریکارڈ رکھنے کا نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ آلودگی کے اصل ذرائع کا پتا لگایا جاسکے اور سپلائی چین کے ہر مرحلے پر ذمہ داری طے کی جاسکے۔ انہوں نے کہا، ’’صرف کسی مادے کی باقیات کا پایا جانا اس بات کا ثبوت نہیں کہ کیڑے مار دوا کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ اصل وجہ کا تعین دستاویزی ثبوت اور آلودگی کے دیگر ممکنہ ذرائع کی جانچ کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔‘‘
شرما کے مطابق، برآمد کنندگان کو کیڑے مار ادویات کے استعمال کا ریکارڈ، فصلوں کی تاریخ، سپلائرز کی تفصیلات اور لیبارٹریوں کی جانچ رپورٹوں کو آپس میں مربوط کرنا چاہیے، تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ چاول کی کھیپ درآمد کرنے والے ملک کے مقررہ معیار پر پوری اترتی ہے یا نہیں۔ یوروفنس اینالیٹیکل سروسز انڈیا کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر پنکج جیمنی نے کہا کہ کیڑے مار ادویات کی باقیات کی وجہ سے چاول کی کھیپ مسترد ہونے کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کسانوں کی سطح پر اقدامات کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ جانچ کی سہولتوں کو تیز رفتار بنانے اور فصلوں کی بہتر اقسام متعارف کرانے کی بھی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا، ’’جب تک ہم کسانوں کو اس خطرے کو کم کرنے کے عملی طریقے فراہم نہیں کریں گے، چاول کی کھیپ مسترد ہونے کے واقعات میں کمی نہیں آئے گی۔‘‘ انہوں نے زرعی منڈیوں کے قریب موبائل جانچ لیبارٹریاں قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی، تاکہ دھان کی خریداری سے پہلے یہ معلوم کیا جاسکے کہ وہ مقررہ معیار پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔ جیو کیم لیب کے چیف ایگزیکٹو افسر اویناش مہیشوری نے کہا کہ جانچ کا عمل چاول کی خریداری سے پہلے شروع ہونا چاہیے اور ملنگ، نمونے لینے اور کھیپ روانہ کرنے تک جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے خریداروں کی مقرر کردہ شرائط اور سرکاری ضوابط، دونوں کی باریک بینی سے جانچ کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
وی آئی ایکسپورٹس کی ڈائریکٹر ایشا گرگ نے بار بار جانچ اور سرٹیفکیشن کرانے سے پیدا ہونے والے مالی بوجھ کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ مختلف لیبارٹریوں کی رپورٹوں میں فرق ہونے سے چاول کی کھیپ روانہ کرنے میں تاخیر ہوسکتی ہے، جس سے پہلے ہی کم منافع پر کام کرنے والے برآمد کنندگان کے لیے مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ ایس جی ایس انڈیا میں فروخت اور مارکیٹنگ کے قومی سربراہ سندیپ پٹانکر نے کہا کہ کیو آر کوڈ کے ذریعے چاول کی کھیپ کا سراغ لگانے کا نظام معیار سے متعلق مسائل کی نشاندہی اور ان کے اصل ذرائع تک پہنچنے میں مدد دے سکتا ہے۔ مذاکرے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی منڈیوں میں ہندوستانی چاول کی ساکھ اور اعتبار برقرار رکھنے کے لیے کسانوں، چاول کی ملوں، برآمد کنندگان اور جانچ کرنے والے اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔