مصنوعی ذہانت کی خدمات سستی بنانے اور اس کے فوائد عام کرنے پر توجہ دے رہا ہے مائیکروسافٹ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 22-10-2026
مصنوعی ذہانت کی خدمات سستی بنانے اور اس کے فوائد عام کرنے پر توجہ دے رہا ہے مائیکروسافٹ
مصنوعی ذہانت کی خدمات سستی بنانے اور اس کے فوائد عام کرنے پر توجہ دے رہا ہے مائیکروسافٹ

 



نئی دہلی: ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی مائیکروسافٹ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے وسیع تر نظام کو فروغ دینے اور اس ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات کی لاگت کم کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔ کمپنی کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر ستیہ نڈیلا نے اپنے سالانہ خط میں یہ بات کہی۔ انہوں نے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے تناظر میں کمپنی کی حکمت عملی کی وضاحت کی۔ نڈیلا نے کہا کہ ’’سپر انٹیلی جنس‘‘ یعنی انتہائی ترقی یافتہ مصنوعی ذہانت ہر ادارے کے کام کرنے کے طریقوں، وسائل کے استعمال اور نتائج کو تبدیل کررہی ہے۔

اسی دوران، اے آئی سے نتائج حاصل کرنے کے عمل، جسے ’انفرنس‘ کہا جاتا ہے، نے سافٹ ویئر کی معیشت میں معمولی اضافی لاگت کو بھی ایک اہم عنصر بنا دیا ہے۔ نڈیلا کے مطابق، ’’اس کے نتیجے میں صارفین اس بات کا زیادہ باریکی سے جائزہ لیں گے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے حاصل ہونے والے نتائج کے مقابلے میں ٹوکنز پر کتنا خرچ آرہا ہے۔‘

‘ انہوں نے اسے ’لاگت اور نتیجے کے درمیان تعلق‘ (کاسٹ ٹو آؤٹ کم) کی نئی حد قرار دیا اور کہا کہ مائیکروسافٹ اس فرق کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہا ہے، تاکہ کم خرچ میں زیادہ مفید نتائج حاصل کیے جاسکیں۔ نڈیلا نے کہا کہ انتہائی ترقی یافتہ مصنوعی ذہانت کے اس نئے دور میں مائیکروسافٹ کی توجہ صرف اے آئی سے پیدا ہونے والے بڑے کاروباری مواقع تک محدود نہیں ہے، بلکہ کمپنی دنیا بھر کے ممالک، برادریوں اور کاروباری اداروں کے لیے حقیقی زندگی میں اس کے فوائد یقینی بنانے کی بھی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مائیکروسافٹ کے پاس ٹیکنالوجی کا ایک وسیع نظام، مختلف نوعیت کے کاروبار اور کاروباری ماڈل موجود ہیں۔

کمپنی پلیٹ فارم اور شراکت داروں کو ترجیح دینے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ نڈیلا کے الفاظ میں، ’’ہم ایک ایسا جدید اور وسیع نظام تیار کررہے ہیں جس کے ذریعے دوسرے ادارے بھی اس نظام کے اندر اور اس کے ذریعے اس سے کہیں زیادہ قدر پیدا کرسکیں گے، جتنی قدر اس نظام کے اندر خود ہمارے پاس محفوظ رہتی ہے۔‘‘ سالانہ خط کے مطابق، کمپنی مختلف ضروریات رکھنے والے صارفین کی خدمات کے لیے سرمایہ کاری کررہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ ایسا بنیادی ڈھانچہ بھی تیار کررہی ہے جو اس کی اپنی مخصوص اور زیادہ قدر رکھنے والی مصنوعات، مثلاً کوپائلٹ، کو چلانے میں مدد دے گا۔ نڈیلا نے کہا، ’’ہمیں جو مانگ نظر آرہی ہے اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے جو اقدامات ہم کررہے ہیں، ان کی بنیاد پر مجھے اپنی سرمایہ کاری سے طویل مدت میں اچھے نتائج حاصل ہونے کا یقین ہے۔

اس اعتماد کی بنیاد اس بات میں ہے کہ ہم کیا تیار کرتے ہیں اور کن لوگوں کی ضروریات کو سامنے رکھ کر تیار کرتے ہیں۔ ہم مختلف قسم کے صارفین کی خدمت کے لیے سرمایہ کاری کررہے ہیں اور ساتھ ہی اپنی مخصوص اور زیادہ قدر رکھنے والی مصنوعات، مثلاً کوپائلٹ، کے لیے درکار بنیادی ڈھانچہ بھی بنا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مائیکروسافٹ صارفین کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے اور طویل مدت میں حصص یافتگان کے لیے قدر پیدا کرنے کی غرض سے اپنے ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کررہا ہے۔ اس کے ساتھ کارکردگی بہتر بنانے اور اخراجات کم کرنے پر بھی کام کیا جارہا ہے۔

نڈیلا نے کمپنی کی مالی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2026 میں مائیکروسافٹ کی آمدنی 18 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ 331.8 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ اسی مدت میں مائیکروسافٹ کلاؤڈ کی آمدنی 27 فیصد بڑھ کر 214.4 ارب امریکی ڈالر ہوگئی۔ کمپنی کی کلاؤڈ کمپیوٹنگ سروس ایژور کی آمدنی میں 41 فیصد اضافہ ہوا اور پہلی مرتبہ یہ 100 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کرگئی۔ مائیکروسافٹ 365 کوپائلٹ کے لیے ادائیگی کرنے والے صارفین کی تعداد بھی 3 کروڑ سے بڑھ گئی، جب کہ کمپنی کی عملی آمدنی 21 فیصد اضافے کے ساتھ 155.2 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ نڈیلا نے کہا، ’’جیسے جیسے انتہائی ترقی یافتہ مصنوعی ذہانت تجربات کے مرحلے سے نکل کر وسیع پیمانے پر استعمال کی طرف بڑھ رہی ہے، ہماری توجہ اس بات کو یقینی بنانے پر ہے کہ اس کے فوائد اور معاشی قدر زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچیں اور افراد، اداروں اور برادریوں کے لیے دیرپا مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنیں۔‘‘