اسلام آباد: پاکستان کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں ایک بار پھر بحران کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ طویل عرصے سے جاری خریداری کے عمل میں تاخیر کے باعث مریضوں کو مفت فراہم کی جانے والی ادویات اور ضروری طبی سامان کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران پمز میں ایک بھی ٹینڈر پر دستخط نہیں ہوئے، جس کے باعث اسپتال میں موجود ادویات اور انجیکشن کا ذخیرہ ختم ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اسپتال کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ خریداری سے متعلق فائلیں مسلسل زیر التوا رہنے کے باعث صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔
پمز میں داخل تمام مریضوں کو ادویات اور انجیکشن مفت فراہم کیے جاتے ہیں، اس لیے خریداری کے عمل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ اسپتال کے معمول کے کام کو متاثر کرسکتی ہے۔ ٹینڈروں کی منظوری نہ ہونے کے باعث ادویات کی فراہمی پہلے ہی متاثر ہوئی ہے، جبکہ دستیاب ذخیرہ بھی تیزی سے کم ہورہا ہے۔ یہ بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 26 اگست کو پمز میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی موت کے واقعے کو ابھی چند ہفتے ہی گزرے ہیں۔
پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا اضافی چارج ابتدا میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کے سربراہ ڈاکٹر محمد سلمان کو دیا گیا تھا، تاہم 5 اکتوبر کو انہیں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اس کے بعد شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی (ایس زیڈ اے بی ایم یو)، اسلام آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر تنویر خلیق کو پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا اضافی چارج سونپا گیا۔ ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا کہ خریداری سے متعلق فائلیں دستخط کے انتظار میں جمع ہوتی جارہی ہیں۔
ان کے مطابق خریداری کمیٹی کے ارکان کی محدود شرکت بھی تاخیر کی ایک وجہ ہے، کیونکہ ان میں سے کئی افراد اپنی دیگر محکمانہ ذمہ داریاں بھی نبھا رہے ہیں۔ محکمہ خزانہ کے ایک عہدیدار نے تاخیر کی ایک وجہ وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے متعلق انتظامی کارروائیوں کو بھی قرار دیا۔ ان کے مطابق مجاز دستخط کنندگان میں تبدیلی کے عمل کو مکمل ہونے میں تقریباً دو ہفتے لگ سکتے ہیں، جس کے باعث مالی معاملات اور منظوریوں کا عمل مزید سست ہوجاتا ہے۔