نیویارک: نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی نے کوئنز میں ہندو برادری کے لوگوں کے ساتھ نوراتری، درگا پوجا، دشین اور وجے دشمی کے تہوار منائے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے امریکی ریاست الینوائے کے ایک ہندو مندر میں اجتماعی فائرنگ کی کوشش کے بعد نفرت کے خلاف اتحاد اور یکجہتی کی اپیل کی۔ ممدانی نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ ہندو برادری کے افراد کے ساتھ ان تہواروں میں شرکت اور ان کی مذہبی و ثقافتی روایات کا حصہ بننا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔
انہوں نے کہا، ’’اس ہفتے مجھے کوئنز میں نیویارک کے ہندو باشندوں کے ساتھ نوراتری، درگا پوجا، دشین اور وجے دشمی منانے کا موقع ملا۔ ہم نے گربا رقص کیا، آرتی میں حصہ لیا، سندور کھیل دیکھا اور دیوی درگا کو خراج عقیدت پیش کیا۔‘‘ ممدانی نے مزید کہا، ’’ہمارے شہر کے مختلف مندروں میں خوشی، عقیدت اور برادری کے جذبے کے ساتھ ایک جگہ جمع ہونا میرے لیے اعزاز کی بات تھی، خصوصاً اس واقعے کے بعد جب گزشتہ ہفتے الینوائے کے ایک ہندو مندر میں اجتماعی فائرنگ کی کوشش کی گئی تھی۔‘‘
نفرت کے خلاف اجتماعی کوششوں پر زور دیتے ہوئے نیویارک کے میئر نے کہا، ’’آئیے، ہم سب نفرت کے خلاف کھڑے ہونے اور ایک دوسرے کی دیکھ بھال کرنے کی اپنی مشترکہ ذمہ داری نبھانے کے لیے متحد ہوں۔ جے ماتا کی۔‘‘ نوراتری ہندوؤں کا نو راتوں تک منایا جانے والا تہوار ہے، جو دیوی درگا اور ان کی نو شکلوں سے منسوب ہے۔ اس سال یہ تہوار 11 اکتوبر سے 19 اکتوبر تک منایا گیا، جبکہ وجے دشمی 20 اکتوبر کو تھی۔ دوسری جانب، امریکی ریاست الینوائے سے کانگریس کے رکن راجا کرشن مورتی نے کانگریس کے 105 ارکان کے ساتھ مل کر وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ الینوائے کے شہر ارورا میں واقع شری وینکٹیشور سوامی (بالاجی) ہندو مندر میں فائرنگ کی کوشش کی تحقیقات ممکنہ وفاقی نفرت پر مبنی جرم کے طور پر کریں۔
یہ واقعہ 11 اکتوبر کو پیش آیا تھا۔ راجا کرشن مورتی اور ان کے اہل خانہ اس وقت مندر میں پوجا کررہے تھے۔ استغاثہ کے مطابق، 19 سالہ الیگزینڈروس پاپوراکیس نے مبینہ طور پر مندر کے باہر ایک شخص کو گولی مارنے کی کوشش کی، لیکن اس کی رائفل میں خرابی پیدا ہوگئی اور وہ فائر نہیں کرسکا۔ الزام ہے کہ بعد میں اس نے دوبارہ واپس آنے اور حملہ کرنے کے منصوبے کے بارے میں بات کی۔
اس کے ایک ساتھی کارکن نے پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد اسے گرفتار کرلیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، تفتیش کاروں نے ایک رائفل، گولیوں کے سیکڑوں کارتوس، جسم پر پہننے والی حفاظتی جیکٹ اور سفید فام نسل کی برتری کے نظریے کی تشہیر کرنے والی تصاویر برآمد کیں۔ استغاثہ نے یہ الزام بھی لگایا کہ پاپوراکیس نے آٹھ صفحات پر مشتمل ایک منشور لکھا تھا، جس میں ہندو عبادت گاہ میں ہندوستانی نژاد لوگوں کے خلاف تشدد کی بات کی گئی تھی اور سفید فام نسل کی برتری کے نظریے کو فروغ دیا گیا تھا۔