نیویارک: فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ فرانس مشکل موسم سرما کے دوران یوکرین کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے یوکرین کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ریڈار اور انٹرسیپٹرز فراہم کرنے کے معاہدے کا بھی اعلان کیا۔ میکرون نے پیر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے قبل زیلنسکی سے دو طرفہ ملاقات کی۔
ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ روس کی جانب سے یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کیے جانے والے حملوں سے لاکھوں خاندانوں کو بجلی اور ہیٹنگ کی سہولت سے محروم ہونے کا خطرہ ہے۔ ان کے مطابق فرانس یوکرین کو موسم سرما کا سامنا کرنے میں مدد دے گا اور جی 7 کے توانائی سے متعلق اقدامات کے ذریعے بھی یوکرین کی مدد کی جائے گی۔ میکرون نے کہا کہ فرانس یوکرین کی فضائی دفاعی صلاحیت میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ریڈار فراہم کرنے اور دشمن کے میزائلوں یا فضائی اہداف کو روکنے والے انٹرسیپٹرز کی فراہمی کے لیے ایک معاہدہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یوکرین کے لیے حمایت کے معاملے پر انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی بات کی ہے۔ میکرون کے مطابق گفتگو میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے حوالے سے ممکنہ عارضی جنگ بندی اور بحیرہ اسود میں جنگی سرگرمیوں پر عبوری پابندی کے امکان پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس کی فرانس حمایت کرتا ہے۔ میکرون نے کہا کہ یہ معاملات ان مذاکرات میں اہم ہوں گے جنہیں دوبارہ شروع ہونا چاہیے اور جن کا مقصد ایک ’’منصفانہ اور پائیدار امن‘‘ تک پہنچنا ہونا چاہیے۔ اس سے قبل پیر کو میکرون نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات کی تھی۔
ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ فرانس اور امریکہ نے یوکرین میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات پر حملوں کے خلاف عبوری جنگ بندی حاصل کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو مربوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میکرون نے کہا کہ شہری آبادی کا تحفظ ضروری ہے اور روس و یوکرین کے درمیان امن کی شرائط پر سنجیدہ مذاکرات جلد از جلد شروع کیے جانے چاہئیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے زیلنسکی پر روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے فوجی حملے روکنے کے لیے دوبارہ زور دیا ہے۔
ٹرمپ نے ان حملوں کو عالمی سطح پر ڈیزل کی سپلائی اور ایندھن کی قیمتوں سے جوڑا۔ ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ یوکرین کے ساتھ جاری جنگ کے باعث روس کی ڈیزل صنعت ’’اپنا کنٹرول کھو چکی ہے‘‘۔ ان کے مطابق روس کی متعدد ڈیزل ریفائنریوں کو نقصان پہنچا ہے اور وہ کم از کم عارضی طور پر کام سے باہر ہیں۔ ٹرمپ نے جنگ کو ’’ختم کیے جانے کی ضرورت‘‘ پر زور دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس تنازع میں ہر ماہ تقریباً 25 ہزار افراد، جن میں زیادہ تر فوجی ہیں، مارے جا رہے ہیں۔
میکرون اور ٹرمپ کی ملاقات اور میکرون کی زیلنسکی سے بات چیت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ٹرمپ اور زیلنسکی کی ملاقات بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر نیویارک میں طے تھی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان اتوار کو ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی تھی۔ اس کے بعد زیلنسکی نے اس بات چیت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئندہ ملاقات میں بڑی تبدیلیوں کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ زیلنسکی کے دفتر نے منگل کو ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کی تصدیق کی تھی۔