لداخ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے، چین کے اعتراضات سے حقیقت نہیں بدلے گی: ہندوستان

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 13-10-2026
لداخ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے، چین کے اعتراضات سے حقیقت نہیں بدلے گی: ہندوستان
لداخ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے، چین کے اعتراضات سے حقیقت نہیں بدلے گی: ہندوستان

 



نئی دہلی: ہندوستان نے لداخ پر چین کے دعووں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ ہندوستان کا اٹوٹ اور خودمختار حصہ ہے۔ ہندوستان نے کہا ہے کہ چین کے اعتراضات بے بنیاد ہیں اور ان سے اس حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ یہ سفارتی تنازع اس وقت سامنے آیا جب بیجنگ نے ہندوستان کی جانب سے نقشوں میں حالیہ تبدیلیوں پر اعتراض کیا۔ چینی بیانات کے بارے میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا، ’’ایک بار پھر واضح کیا جاتا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ ہندوستان کا اٹوٹ اور ناقابل تقسیم حصہ ہے۔

چین کی جانب سے کتنی ہی بار انکار کیا جائے، اس قائم شدہ حقیقت کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔‘‘ یہ تنازع وزارت داخلہ کی جانب سے لداخ میں 28 اہم مقامات اور جغرافیائی خصوصیات کے نام سرکاری نقشوں پر یکساں طور پر درج کرنے کے اعلان کے بعد پیدا ہوا۔ چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے اس اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چین نے کبھی اس علاقے کو تسلیم نہیں کیا اور ہندوستان نے یہ قدم یک طرفہ طور پر اٹھایا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا، ’’یہ قدم غیر قانونی اور بے اثر ہے۔ اس سے یہ حقیقت نہیں بدل سکتی کہ چین اور ہندوستان کی سرحد کے مغربی حصے میں متعلقہ علاقے ہمیشہ سے چین کے رہے ہیں۔

‘‘ چین کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ اس معاملے میں وزارت کی سرکاری وضاحت خود تمام باتیں واضح کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس اقدام کے تحت مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ میں واقع 28 الگ الگ مقامات اور قدرتی جغرافیائی خصوصیات کی نشاندہی کی گئی ہے اور اب ان کے نام محکمۂ سروے آف انڈیا کے سرکاری نقشوں میں یکساں طور پر درج کیے گئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق، ان مقامات کے نام طے کرنے سے پہلے لداخ کی مقامی انتظامیہ اور علاقے کے متعلقہ فریقوں سے تفصیلی مشاورت کی گئی تھی۔

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا، ’’اعلان میں بتایا گیا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ میں واقع 28 مقامات اور جغرافیائی خصوصیات کی نشاندہی کرکے انہیں محکمۂ سروے آف انڈیا کے سرکاری نقشے میں معیاری نام دیے گئے ہیں۔ یہ کام لداخ کی انتظامیہ اور مقامی فریقوں سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔ ان مقامات کو لداخ کے سرکاری نقشے میں باضابطہ طور پر درج کرنے کا مقصد ان کی درست شناخت کو آسان بنانا اور عام لوگوں میں ان کے بارے میں بہتر معلومات فراہم کرنا ہے۔‘‘ نقشوں میں یہ تبدیلیاں 2 اکتوبر کو باضابطہ طور پر نافذ کی گئیں۔ ان میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ واقع اہم سرحدی تنازع والے مقامات بھی شامل ہیں۔

ان میں گوگرا اور ہاٹ اسپرنگ جیسے علاقے شامل ہیں، جو 2020 میں ہندوستان اور چین کے درمیان فوجی کشیدگی کے اہم مراکز رہے تھے۔ یہ کشیدگی پینگونگ جھیل کے قریب دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔ نقشے میں شامل دیگر مقامات میں الیشا گری، برنگسا، چاپچنگل درہ، کنشک چوٹی، کرون پیر پہاڑ، کوکسل، مارتنڈ گری، پارپک گلیشیئر، اسکامری گلیشیئر، شاچمیریک درہ، شکورگا وادی، زوراور چوٹی، دیہرا کمپاس، ڈراک کارپو، جولموری، کمارایانہ پوائنٹ، پنگلنگ، رنچن زنگپو، ساکیاسری گری، گرو رنپوچے، شمل لنگپا، یانگپا ندی، مارپا لوتساوا ری، ملاریپا کانگری، شیواری اور مہیشوراری شامل ہیں۔