نیویارک: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے ایک نئی کتاب میں لگائے گئے ان الزامات کو سختی سے مسترد کردیا ہے، جن میں انہیں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور اسرائیل سے تعلق رکھنے والے افراد کے زیر انتظام مبینہ خفیہ فنڈز سے جوڑا گیا ہے۔ کشنر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وینٹی فیئر نے ایک ایسی کتاب کا اقتباس شائع کیا ہے جس میں انتہائی سنگین اور سراسر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، مصنف کے دعوے بالکل من گھڑت ہیں اور ایسا کچھ کبھی نہیں ہوا۔
کشنر نے کہا کہ ان الزامات کے بارے میں ان کا مؤقف پہلے ہی واضح کیا جاچکا تھا، لیکن اس کے باوجود مصنف کوئی ایسا ثبوت پیش نہیں کرسکا جو ان دعوؤں کی تصدیق کرتا۔ ان کے مطابق، نہ تو بینک اسٹیٹمنٹ، نہ رقم کی منتقلی کے ریکارڈ، نہ اکاؤنٹ نمبر، نہ لین دین کی تاریخیں اور نہ ہی کوئی دوسری قابل تصدیق تفصیلات پیش کی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس مدت کے بارے میں یہ الزامات لگائے گئے ہیں، اس دوران وہ دنیا کے سب سے زیادہ جانچ پڑتال کا سامنا کرنے والے افراد میں شامل تھے۔ انہیں ذرائع ابلاغ کی مسلسل توجہ، کانگریس کی متعدد تحقیقات اور خصوصی وکیل کی سربراہی میں ہونے والی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
کشنر کے مطابق، انہوں نے رضاکارانہ طور پر ان تحقیقات میں تعاون کیا اور 30 گھنٹے سے زیادہ وقت تک اپنے بیانات دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تحقیقات کے دوران یہ الزامات کبھی سامنے نہیں آئے، کیونکہ ان کے مطابق ایسے واقعات سرے سے پیش ہی نہیں آئے تھے۔ کشنر نے کتاب میں کیے گئے دعوؤں کو صحافتی تحقیقات کے نام پر پیش کی گئی من گھڑت کہانیاں قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ صحافت نہیں، بلکہ خیالی باتوں، افسانوں اور جانبدارانہ مؤقف کا مجموعہ ہے۔ وینٹی فیئر نے اپنی رپورٹ میں میتھیو کول کی کتاب ’’پرنسز اینڈ تھیوز: جیرڈ کشنر اینڈ محمد بن زایدز سیکریٹ پلاٹ ٹو ریمیک دی مڈل ایسٹ‘‘ کا ایک اقتباس شائع کیا ہے۔ کتاب میں جیرڈ کشنر اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید کے مبینہ خفیہ منصوبوں کے بارے میں دعوے کیے گئے ہیں۔ میتھیو کول نے کتاب میں لکھا کہ 2020 کے موسم بہار کے آخر میں ایک ایسے ذریعے نے ان سے رابطہ کیا جسے وہ قابل اعتماد سمجھتے تھے۔
اس ذریعے کے مطابق، نیدرلینڈز کی حکومت نے مبینہ طور پر جیرڈ کشنر کے فون تک رسائی حاصل کرلی تھی اور دبئی میں قائم ایک بینک اکاؤنٹ استعمال کرتے وقت ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کی تھی۔ مصنف کے مطابق، اس معاملے میں غیر معمولی بات یہ تھی کہ اس اکاؤنٹ میں موجود کروڑوں ڈالر آذربائیجان کے ایک بینک سے آئے تھے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کشنر نے دبئی کے اس اکاؤنٹ سے بڑی رقوم دوسرے افراد کو منتقل کی تھیں، جن میں ایک جنگجو سردار، ایک کرائے کا فوجی اور ماضی میں پیشہ ور قاتل رہ چکا ایک شخص شامل تھا۔
کول نے لکھا کہ ابتدا میں انہیں یہ کہانی ناقابل یقین محسوس ہوئی۔ تاہم، تقریباً 6 ماہ بعد جب وہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے تنازعات میں متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے کرائے کے فوجیوں کے مبینہ استعمال کے بارے میں کسی دوسرے شخص سے بات کررہے تھے، تو انہوں نے اچانک کشنر اور اماراتی اکاؤنٹ سے رقم کی منتقلی کے بارے میں پوچھ لیا۔ مصنف کے مطابق، اس شخص نے پہلے خاموشی اختیار کی اور پھر جواب دیا کہ اسے اس معاملے کی معلومات ہیں۔ تاہم، کشنر کے وکیل نے اس مبینہ بینک اکاؤنٹ کے وجود ہی سے انکار کیا ہے۔
مصنف کے مطابق، ایک مبینہ خفیہ انٹیلی جنس کارروائی کے دوران کشنر کے فون تک رسائی حاصل کی گئی تھی، جس سے ان کے بارے میں معلومات سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا۔ کتاب میں الزام لگایا گیا ہے کہ کشنر کو 2 بینک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل تھی، جن میں سے ایک آذربائیجان اور دوسرا اسرائیل میں تھا۔ دعوے کے مطابق، سعودی شاہی خاندان کے ایک فرد اور متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان کے ایک فرد نے ان اکاؤنٹس میں رقم جمع کرائی تھی۔ تاہم، کتاب میں بیان کیے گئے ان الزامات کی آزادانہ تصدیق کے بارے میں فراہم کردہ رپورٹ میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے، جب کہ کشنر نے ان تمام دعوؤں کو واضح طور پر مسترد کردیا ہے۔