اٹلانٹا: ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے موقع پر یورپی یونین، جرمنی، برازیل، میکسیکو، کینیڈا اور ارجنٹینا کے اپنے ہم منصبوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی اہم پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جے شنکر نے جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کئی پوسٹوں کے ذریعے اپنی ملاقاتوں کی تفصیلات شیئر کیں۔ انہوں نے یورپی یونین کی خارجہ امور اور سکیورٹی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس کے ساتھ ملاقات میں یوکرین تنازع اور خلیجی خطے کی صورت حال پر بات چیت کی۔
انہوں نے کہا، ’’یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس کے ساتھ یوکرین تنازع اور خلیجی خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔‘‘ جے شنکر نے جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان وڈیفول سے بھی ملاقات کی اور ان کے ساتھ بات چیت پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، ’’جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان وڈیفول سے ملاقات کرکے خوشی ہوئی۔ ان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا ہمیشہ انتظار رہتا ہے۔‘‘ برازیل کے وزیر خارجہ ماؤرو ویرا کے ساتھ ملاقات میں دونوں ملکوں کے دو طرفہ تعلقات اور عالمی امور پر گفتگو ہوئی۔ جے شنکر نے کہا، ’’برازیل کے وزیر خارجہ ماؤرو ویرا کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنا خوشی کی بات تھی۔ ہماری گفتگو میں دو طرفہ تعلقات اور عالمی امور شامل رہے۔
‘‘ میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو الواریز کے ساتھ ملاقات کے بارے میں جے شنکر نے بتایا کہ بات چیت کا مرکز دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور شراکت داری کو نئی رفتار دینا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو الواریز کے ساتھ میری ملاقات کا مقصد ہمارے تعلقات کو نئی رفتار دینا تھا۔‘‘ جے شنکر نے کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند سے بھی ملاقات کی اور دونوں ملکوں کے درمیان تعاون میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا، ’’آج کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند سے ملاقات کرکے خوشی ہوئی۔ ہم نے اپنے تعاون میں مسلسل ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔‘‘
ارجنٹینا کے وزیر خارجہ پابلو کوئرنو کے ساتھ ملاقات میں تجارت، اہم معدنیات، دفاع اور جوہری تعاون سمیت کئی شعبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ کثیر ملکی امور پر بھی بات ہوئی۔ جے شنکر نے کہا، ’’جی 20 کی اٹلانٹا میٹنگ کے موقع پر ارجنٹینا کے وزیر خارجہ پابلو کوئرنو سے ملاقات کرکے خوشی ہوئی۔ ہم نے تجارت، اہم معدنیات، دفاع اور جوہری تعاون پر بات چیت کی۔ اس کے علاوہ کثیر ملکی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔‘‘ یہ تمام ملاقاتیں اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے موقع پر جے شنکر کی مصروفیات کا حصہ تھیں۔
ان ملاقاتوں کے ذریعے موجودہ شراکت داریوں کا جائزہ لینے، تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے اور عالمی سطح پر پیش آنے والے اہم واقعات پر ایک دوسرے کے خیالات جاننے کا موقع ملا۔ اس پیش رفت سے واقف ایک ذریعے نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ اٹلانٹا میں جی 20 اجلاس کے دوران جے شنکر کا پروگرام کافی مصروف ہے۔ وہ جمعہ کو دو روزہ وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں شرکت کے لیے اٹلانٹا پہنچے تھے۔ اس میٹنگ کی میزبانی امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو کر رہے ہیں۔ امریکی حکومت کے مطابق اس میٹنگ کے ایجنڈے میں توانائی، سپلائی چین یعنی اشیا کی تیاری سے لے کر ان کی ترسیل تک کا نظام اور سمندری راستوں کو کھلا رکھنے جیسے موضوعات شامل ہیں۔ یہ تمام امور ہندوستان کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ہندوستان تیل، مائع قدرتی گیس (ایل این جی) اور کھاد کی درآمد کے لیے ان راستوں اور عالمی سپلائی نظام پر انحصار کرتا ہے۔
وزارتِ خارجہ نے بتایا ہے کہ جے شنکر کواڈ وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں بھی شرکت کریں گے اور مختلف ملکوں کے نمائندوں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔ مذکورہ ذریعے کے مطابق ان کی ملاقاتوں کی فہرست میں یورپ، میکسیکو، مشرقی ایشیا اور شمالی امریکہ کے ممالک شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی صورت حال میں ہندوستان اپنے سفارتی اور اقتصادی امکانات کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ذریعے نے کہا کہ مجموعی طور پر جے شنکر کا یہ پروگرام ایسے وقت میں ہندوستان کی مختلف ملکوں کے ساتھ شراکت داری بڑھانے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے، جب عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ ہر ملاقات کا اپنا الگ مقصد ہے۔ یورپی ممالک اور کوریا کے ساتھ ٹیکنالوجی اور دفاع، ارجنٹینا اور برازیل کے ساتھ وسائل اور کینیڈا کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔