نئی دہلی: ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے جمعرات کو ہندوستان کے دو روزہ دورے پر آئے پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک سے ملاقات کی۔ جے شنکر نے مختلف شعبوں میں ہندوستان اور پولینڈ کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے بارے میں ٹسک کے خیالات کی ستائش کی۔ جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں کہا، ’’پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک سے ملاقات کرکے خوشی ہوئی۔ مختلف شعبوں میں ہندوستان اور پولینڈ کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کرنے کے بارے میں ان کے خیالات قابل قدر ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ڈونالڈ ٹسک کی ملاقات کے منتظر ہیں، جس سے دونوں ملکوں کی اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک بدھ کو وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر نئی دہلی پہنچے تھے۔ وہ 21 سے 23 اکتوبر تک ہندوستان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ ان کے ساتھ پولینڈ کے وزیر خزانہ و معیشت آندریج دومانسکی اور کاروباری شخصیات کا ایک وفد بھی آیا ہے۔ اس دورے کا مقصد ہندوستان اور پولینڈ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانا اور تجارت، دفاع، ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو وسعت دینا ہے۔
دورے کے دوران ٹسک نے راج گھاٹ پر مہاتما گاندھی کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھا کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور ڈونالڈ ٹسک جمعرات کو دوطرفہ مذاکرات بھی کریں گے، جن میں دونوں ملکوں کے تعلقات کا جائزہ لینے کے ساتھ علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ٹسک نئی دہلی میں ہندوستان۔پولینڈ بزنس فورم میں بھی شرکت کریں گے۔ اس کے بعد 23 اکتوبر کو وہ بنگلورو جائیں گے، جہاں اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور خلائی شعبوں سے وابستہ رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ اگست 2024 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے پولینڈ دورے کے دوران دونوں ملکوں نے اپنے تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کا درجہ دیا تھا۔
ڈونالڈ ٹسک کا موجودہ دورہ 2010 کے بعد کسی پولش وزیر اعظم کا ہندوستان کا پہلا دورہ ہے۔ ہندوستان میں پولینڈ کے سابق سفیر ایڈم بوراکووسکی نے اس دورے کی اقتصادی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دونوں ملک سالانہ دوطرفہ تجارت کو تقریباً 6 ارب امریکی ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ بوراکووسکی نے کہا، ’’یہ دورہ بنیادی طور پر کاروبار سے متعلق ہے۔ اس دوران کاروباری سرگرمیوں پر خاص توجہ دی جائے گی۔ نئی دہلی اور بنگلورو میں اقتصادی فورم منعقد ہوں گے اور پولینڈ و ہندوستان کی کمپنیوں کے درمیان کئی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں خلائی ٹیکنالوجی اور دفاع کے شعبوں میں تعاون پر بھی توجہ دی جائے گی۔ ان کے مطابق، یہ دورہ دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کا ایک اہم موقع ہے۔ بوراکووسکی نے ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا، ’’ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اس مقصد کو حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے، کیونکہ یہ یورپی یونین کی جانب سے کسی بھی فریق کے ساتھ کیا جانے والا سب سے بڑا آزاد تجارتی معاہدہ ہے۔‘‘ ان کے مطابق، اس معاہدے سے اقتصادی تعاون میں اضافے میں مدد مل سکتی ہے۔
دورے کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’اس وقت ہماری بات چیت تجارت، دفاع اور خلائی ٹیکنالوجی کے شعبوں پر مرکوز ہے۔ حال ہی میں ایک خلائی مشن میں دو خلاباز شامل تھے، جن میں ایک پولینڈ اور دوسرا ہندوستان سے تھا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک نئے دور کی شروعات ہے۔‘‘ لوکاسیویچ انسٹی ٹیوٹ آف انوویشن اینڈ ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر میخاؤ ماتلاک نے بھی دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے عالمی معاملات میں ہندوستان کے بڑھتے ہوئے کردار اور اس کی تکنیکی صلاحیتوں کا ذکر کیا۔
ماتلاک نے کہا، ’’2024 میں وزیر اعظم نریندر مودی پولینڈ آئے تھے اور انہوں نے ہندوستان و پولینڈ کے تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کا درجہ دیا تھا۔ اب پولینڈ کے وزیر اعظم یہاں آئے ہیں تاکہ اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جاسکے اور اسے عملی معنی دیے جاسکیں۔‘‘ انہوں نے پولینڈ کے اداروں اور ہندوستان کے تحقیقی و تکنیکی شعبوں کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات کی نشاندہی کی۔ ان میں ہندوستانی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی)، سائنسی و صنعتی تحقیق کی کونسل (سی ایس آئی آر) اور نئے کاروباری ادارے شامل ہیں۔ ماتلاک نے کہا کہ اس تعاون سے دونوں ملکوں کو بہت سے مواقع حاصل ہوں گے۔
انہوں نے یورپی یونین کے تحقیقی پروگرام ’’ہورائزن‘‘ میں ہندوستان کی شرکت کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ اس کے ذریعے ہندوستانی ماہرین تعلیم کو یورپی شراکت داروں کے ساتھ مل کر تحقیق کے لیے یورپی مالی امداد حاصل کرنے کے مواقع مل سکتے ہیں۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ڈونالڈ ٹسک کا دورہ ہندوستان اور پولینڈ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی رفتار دے گا اور دونوں ملکوں کے دیرینہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔