ابیدجان: وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ انڈین ٹیکنیکل اینڈ اکنامک کوآپریشن (آئی ٹیک) پروگرام ہندوستان کی استعداد سازی کے لیے سب سے اہم پلیٹ فارم میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کوٹ ڈی آئیوری کی ہنرمند افرادی قوت، تکنیکی مہارت اور ادارہ جاتی صلاحیت کی ضروریات پوری کرنے میں ایک قابل اعتماد شراکت دار ہے۔ ابیدجان میں بدھ کے روز آئی ٹیک کے سابق طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ 1964 میں شروع کیا گیا یہ پروگرام وقت کے ساتھ ہندوستان کی شراکت دار ممالک کے ساتھ تعلقات اور تعاون کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس سال آئی ٹیک پروگرام کا 62واں سال ہے۔ یہ 1964 میں شروع ہوا تھا اور اب یہ استعداد سازی اور دوسرے ممالک کے ساتھ رابطے کے ہمارے اہم ترین پلیٹ فارم میں تبدیل ہو چکا ہے۔‘
‘ جے شنکر کے مطابق آئی ٹیک اب 160 سے زیادہ شراکت دار ممالک تک پھیل چکا ہے اور ہر سال مختلف شعبوں میں تقریباً 10 ہزار مکمل طور پر مالی اعانت فراہم کیے جانے والے تربیتی مواقع پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ کے حوالے سے ترقیاتی شراکت داری ہمیشہ ہندوستان کے تعلقات کا ایک اہم حصہ رہی ہے اور ہندوستان نے یہ اصول اپنایا ہے کہ افریقی شراکت داروں کے لیے کیے جانے والے اقدامات ان کی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق ہونے چاہئیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ آئی ٹیک ہندوستان کے ترقیاتی تجربات، سلامتی اور حکمرانی کے طریقوں، بہترین عملی تجربات، ٹیکنالوجی اور مہارت کو دوسرے ممالک کے ساتھ بانٹنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
اس کے ساتھ ہی ہندوستان بھی اپنے شراکت دار ممالک کے تجربات سے سیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’آئی ٹیک اس لیے بہت اہم ہے کہ یہ ہمارے ترقیاتی تجربات، سلامتی سے متعلق تجربات، حکمرانی کے طریقوں اور بہترین عملی تجربات کو بانٹنے کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی اور مہارت پر مل کر تبادلہ خیال کا ذریعہ ہے۔‘‘ جے شنکر نے بتایا کہ آئی ٹیک کے تحت اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل حکمرانی، سرکاری انتظامیہ، بینکاری و مالیات، زراعت، توانائی، ہنرمندی کی ترقی، دفاع، سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی سمیت متعدد شعبوں میں تربیت اور تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’اصل مقصد ایک ایسا جامع پیکیج تیار کرنا ہے جس کے ذریعے ہمارے شراکت دار ممالک کی تمام ضروریات کو اس پروگرام کے ذریعے پورا کیا جا سکے۔‘‘ ہندوستان اور کوٹ ڈی آئیوری کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور دوستانہ تعلقات ہیں اور استعداد سازی ان تعلقات کا ایک اہم ستون ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران کوٹ ڈی آئیوری سے تقریباً 800 افراد نے آئی ٹیک کے تحت تربیتی مواقع سے فائدہ اٹھایا ہے۔ ان کے بقول یہ انسانی وسائل میں ایک بڑی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ ہندوستان اور کوٹ ڈی آئیوری کے درمیان طویل مدتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش بھی ہے۔
جے شنکر نے کہا کہ دفاعی شعبے میں 123 اور شہری شعبے میں 100 تربیتی نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ رابطوں اور تبادلوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آخرکار عمارتیں اور دیگر اثاثے بنائے جا سکتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے کے ملک کا دورہ بھی کر سکتے ہیں، لیکن تربیتی پروگراموں کے ذریعے پیدا ہونے والے انسانی روابط، جذبات، تجربات، یادیں اور باہمی تعلقات ہی دونوں ممالک کے رشتے کا اصل سرمایہ ہیں۔ انہوں نے کوٹ ڈی آئیوری کو مغربی افریقہ میں ہندوستان کا ایک اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اس کی اقتصادی ترقی، حکمرانی میں تبدیلی اور سلامتی و دفاع سے متعلق اہداف کی حمایت کرتا رہے گا۔
جے شنکر نے کہا، ’’میں آج اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ ان ضروریات کو پورا کرنے میں ہندوستان ایک قابل اعتماد شراکت دار ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ آئی ٹیک کے ذریعے استعداد سازی کوٹ ڈی آئیوری کو اپنی انسانی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور تیزی سے تبدیل ہوتی معیشت اور بہتر حکمرانی کے لیے ضروری مہارتیں حاصل کرنے میں مدد دے گی۔
اس سے قبل جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہیں کوٹ ڈی آئیوری کے آئی ٹیک کے سابق طلبہ سے ملاقات اور ان کے تجربات سن کر خوشی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے استعداد سازی کے اقدامات شراکت دار ممالک کی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق ہیں اور دونوں معاشروں کے درمیان انسانی روابط کو بھی مضبوط بنا رہے ہیں۔ جے شنکر نے قومی تعلیم، خواندگی اور تکنیکی تعلیم کے وزیر کوفی نگوسان کا بھی شکریہ ادا کیا، جو خود آئی ٹیک کے سابق طالب علم ہیں اور اس ملاقات میں شریک ہوئے۔