نئی دہلی: وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بدھ کو کہا کہ ہندوستان کو ’درمیانی طاقت‘ قرار دینا مناسب نہیں، کیونکہ ملک کی آبادی، معیشت کا حجم اور ترقی کے وسیع امکانات اس اصطلاح کو محدود بنا دیتے ہیں۔ بلومبرگ نیو اکانومی فورم میں خطاب کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ عالمی طاقت کے ڈھانچے میں درمیانی درجے پر موجود ممالک کو اب اپنے مفادات کا خود جائزہ لینا ہوگا، آزادانہ پالیسیاں بنانی ہوں گی اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر نئے معاہدے کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا، ’’ایک طرح سے ہم درمیانی طاقت سے بڑھ کر ہیں، بلکہ ہم ایسی طاقتیں ہیں جو عالمی نظام کے درمیانی حصے میں موجود ہیں۔
آخر درمیانی طاقت کی تعریف کیا ہوگی؟ وزیر اعظم کے الفاظ میں کہیں تو یہ ایسے ممالک ہیں جو دوسروں کو طاقت ور بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘ جے شنکر نے مزید کہا، ’’کیا ہندوستان کو درمیانی طاقت کہا جا سکتا ہے؟ یہ اصطلاح ہمارے لیے زیادہ مناسب نہیں ہے، کیونکہ اگر آپ دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک ہیں، آپ کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) تقریباً 4 ٹریلین ڈالر ہے اور آپ کے سامنے ترقی کے بے شمار امکانات موجود ہیں، تو خود کو درمیانی طاقت کہنا کسی حد تک اپنی صلاحیتوں کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔‘‘
وزیر خارجہ نے کہا کہ آنے والے وقت میں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ معاہدے کرنے سے پہلے اپنے مفادات کا تعین خود کرنا ہوگا اور اسی بنیاد پر اپنی پالیسیاں بنانی ہوں گی۔ انہوں نے کہا، ’’درمیانی طاقتیں اب اپنے طور پر سوچیں گی، اپنے مفادات طے کریں گی، اپنی پالیسیاں بنائیں گی اور پھر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر معاہدے کریں گی۔‘‘ جے شنکر نے بدلتے ہوئے عالمی نظام میں معاشی انحصار کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور اہم وسائل و مالیاتی نظام کو دباؤ ڈالنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جانے کے خطرات کی جانب بھی توجہ دلائی۔
موجودہ عالمی صورت حال کو ’’اہم راستوں اور وسائل پر گرفت کی دنیا‘‘ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ممالک اہم وسائل اور مالیاتی نظام پر اپنے کنٹرول کو دوسروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’آج دنیا ایسی صورت حال کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں اہم وسائل اور نظام پر گرفت رکھنے کی بڑی اہمیت ہے اور انہیں ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ہم عام طور پر نایاب زمینی معدنیات کی مثال دیتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مالیات بھی دباؤ ڈالنے کا ایک ذریعہ ہیں۔ پابندیاں بھی ایسا ہی ذریعہ ہیں۔ بعض ممالک مالیاتی نظام یا امریکی ڈالر پر اپنی گرفت کو دوسروں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔‘
‘ وزیر خارجہ کے مطابق، عالمی مقابلے کا محور تیزی سے یہ بنتا جائے گا کہ مختلف ممالک ایک دوسرے کے ساتھ کیا پیش کر سکتے ہیں اور اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے کس طرح کے معاہدے کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں ہم ایسی دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں کسی حد تک مقابلہ اس بات پر ہوگا کہ کون کیا پیش کر سکتا ہے۔ اس کے بعد ممالک آپس میں معاہدے کریں گے کہ تم یہ کرو، میں وہ کرتا ہوں، آؤ مل کر اس شعبے کو ترقی دیں یا ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کریں۔‘‘ تاہم، جے شنکر نے بدلتے ہوئے عالمی نظام کے بارے میں مایوسی پر مبنی رویہ اختیار کرنے سے خبردار کیا۔
انہوں نے کہا، ’’اس کے باوجود میرا خیال ہے کہ ہمیں تبدیلی کے اس عمل کو مایوسی کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔‘‘ یہ گفتگو نئی دہلی میں منعقدہ بلومبرگ نیو اکانومی فورم کا حصہ تھی۔ اس موقع پر جے شنکر نے کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند، آسٹریلیا کے سابق وزیر اعظم کیون رڈ اور برطانیہ کے سابق وزیر اعظم رشی سنک کے ساتھ عالمی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔