یروشلم: اسرائیل کے مختلف شہروں میں تقریباً 300 افراد نے یہودی عرب حکومت کے قیام کے مطالبے پر احتجاج کیا۔ اسرائیلی اخبار ہاریتز کے مطابق مظاہرے یروشلم کے پیرس اسکوائر، تل ابیب کے میسیلا پارک اور حیفا کے یونیسکو اسکوائر میں کیے گئے۔
مظاہرین نے ایسے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ’’دریا سے سمندر تک سب کے لیے آزادی‘‘ اور ’’یہودی عرب حکومت کے حق میں‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ ہاریتز کے مطابق ان مظاہروں میں شامل افراد نے ایک ایسی حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا جو تمام طبقات کو نمائندگی دے۔
دوسری جانب اسرائیل کے اہم سیاسی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ مرکزی انتخابی کمیٹی کے جزوی نتائج اور اخبار ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق ووٹوں کی گنتی کے دوران پارلیمانی نشستوں کا حساب ابھی غیر حتمی ہے۔
مقامی وقت کے مطابق رات 11 بج کر 35 منٹ تک جاری کیے گئے جزوی اعداد و شمار کے مطابق 97.5 فیصد پولنگ مراکز کے 90 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد بن یامین نیتن یاہو کے حامی اتحاد کو 53 نشستیں حاصل ہوئی ہیں جبکہ مخالف اتحاد کو 48 نشستیں ملی ہیں۔
تازہ اعداد و شمار سے ان جماعتوں کی صورت حال بھی سامنے آئی ہے جو پارلیمنٹ میں نمائندگی کے لیے مقررہ 3.25 فیصد انتخابی حد سے نیچے ہیں۔ ان میں ریزرووسٹ پارٹی کو 2.6 فیصد، پیپل آف اسرائیل کو 1.6 فیصد اور حریدی پبلک دھڑے کو 0.2 فیصد ووٹ ملے ہیں۔
انتخابی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ اعداد و شمار جزوی ہیں اور گنتی آگے بڑھنے کے ساتھ ان میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق دوہرے لفافوں میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی عموماً آخری مراحل میں ہوتی ہے۔ ان میں فعال فوجی اہلکاروں کے ووٹ بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے پارلیمنٹ کی نشستوں کی حتمی تقسیم ابھی واضح نہیں ہے۔
اپوزیشن کے اہم امیدوار اور یاشر پارٹی کے سربراہ گادی آئزن کوٹ نے انتخابی نتائج کو وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی حکومت پر عدم اعتماد کا واضح اظہار قرار دیا ہے۔ انہوں نے پارلیمانی اکثریت حاصل نہ ہونے کے باوجود حکومت کو ہٹانے کی کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
آئزن کوٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یہ عوام کی مرضی ہے۔ عوام نے 7 اکتوبر کی حکومت اور فوجی بھرتی سے بچنے والوں کے اتحاد پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ان کا اشارہ نیتن یاہو اور ان کے سیاسی اتحادیوں کی جانب تھا۔
اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمنٹ کنیسٹ میں نیتن یاہو کی حامی جماعتوں کے پاس 53 نشستیں ہیں جبکہ ان کے مخالفین مجموعی طور پر 67 نشستوں پر قابض ہیں۔ تاہم مخالفین کے درمیان بھی اختلافات موجود ہیں۔ یہودی قیادت والی جماعتوں کے پاس 48 نشستیں جبکہ عرب قیادت والی جماعتوں کے پاس 19 نشستیں ہیں۔ یہودی قیادت والی بیشتر جماعتیں عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنانے کے حق میں نہیں ہیں۔
آئزن کوٹ نے کہا کہ ابھی کئی دنوں کی سیاسی سرگرمیاں باقی ہیں لیکن ان کی توجہ عوام کی جانب سے سونپی گئی اہم ذمہ داری پر ہے۔ ان کے مطابق مقصد اسرائیل میں تبدیلی لانا اور ایسی صہیونی حکومت قائم کرنا ہے جو فوجی بھرتی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہو۔
ادھر بائیں بازو کے سیاسی دھڑے دی ڈیموکریٹس کے سربراہ یائر گولان نے انتخابی پولنگ ختم ہونے کے بعد اپنے پہلے میڈیا بیان میں اعلان کیا کہ وہ حکومت کی تشکیل کے لیے تین مختلف جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ تاہم انہوں نے ان رہنماؤں کے نام ظاہر نہیں کیے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق گولان کی آئندہ ملاقاتوں میں اپوزیشن کے اہم رہنما شامل ہیں جن میں یاشر پارٹی کے سربراہ گادی آئزن کوٹ اور بیاخاد کے نائب سربراہ یائر لاپید شامل ہیں۔
گولان چار جماعتوں پر مشتمل اس اتحاد کا حصہ ہیں جس میں صہیونی اپوزیشن جماعتیں شامل ہیں۔ اس اتحاد میں وہ واحد رہنما ہیں جنہوں نے عرب جماعتوں کو حکومتی اتحاد میں شامل کرنے کی حمایت کھل کر کی ہے۔
چینل 12 کو انٹرویو دیتے ہوئے گولان نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اتوار تک وہ تمام متعلقہ رہنماؤں سے ملاقات کر لیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا یسرائیل بیتینو کے سربراہ آویگدور لائبرمین بھی جمعرات کو ہونے والی ملاقاتوں میں شامل ہیں تو انہوں نے نام ظاہر کرنے سے گریز کیا۔
اپنی سیاسی حکمت عملی بیان کرتے ہوئے گولان نے کہا کہ وہ اپوزیشن رہنماؤں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ سب کا مقصد مشترکہ ہے۔ ان کے بقول یہ ایک بڑا مشن ہے جس کا مقصد اسرائیل کے عوام میں امید پیدا کرنا ہے۔
گولان نے مزید کہا کہ نئی حکومت کا قیام کئی اہم وجوہات کی بنا پر ضروری ہے۔ ان میں سکیورٹی کے سنگین مسائل سے نمٹنا، موجودہ حکومت کی متنازع عدالتی اصلاحات کو روکنا اور نوجوان نسل میں امید بحال کرنا شامل ہے۔ ان کے مطابق نوجوان اب یہ سوال کر رہے ہیں کہ آیا وہ اس ملک میں رہنا بھی چاہتے ہیں۔