تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان منگل کی صبح اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ ہوگئے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق صدر پزشکیان اس دورے کے دوران عالمی فورم پر ایران کا مؤقف پیش کریں گے اور مختلف ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔ روانگی سے قبل ایرانی صدر کو ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف، رہبر اعلیٰ کے دفتر کے بین الاقوامی امور کے نائب حجۃ الاسلام والمسلمین محسن قمی اور کابینہ کے متعدد ارکان نے سرکاری طور پر الوداع کیا۔
نیویارک روانہ ہونے سے پہلے صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران عالمی فورمز پر اپنے مؤقف کو مضبوطی سے پیش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں ایران جن معاملات کو اٹھائے گا، ان میں ایرانی عوام کی ’’مظلومیت‘‘، پیش آنے والے واقعات اور پیدا ہونے والی بداعتمادی شامل ہے۔ پزشکیان نے کہا کہ ایران کئی مرتبہ مذاکرات کی میز پر گیا اور معاہدوں پر دستخط بھی کیے، لیکن ان کے مطابق وعدوں پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا نے دیکھا کہ کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا اور معاہدوں کو نظر انداز کیا گیا۔ ایرانی صدر 23 ستمبر کی صبح اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔
دورے کے دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت اور ایران کا مؤقف پیش کرنے کے علاوہ اجلاس میں شریک بعض ممالک کے سربراہان سے بھی ملاقات کریں گے۔ پزشکیان امریکہ میں مقیم تعلیم یافتہ ایرانیوں کے علاوہ امریکی دانشوروں اور تھنک ٹینکس کے نمائندوں سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔ ایران کا اقوام متحدہ پر اعتماد بحال کرنے پر زور ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی بھی 81ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے پیر کو نیویارک پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی کا اجلاس اس بات پر گفتگو کا موقع فراہم کرے گا کہ اقوام متحدہ پر دنیا کا اعتماد کس طرح کم ہوا اور اسے دوبارہ کیسے بحال کیا جا سکتا ہے۔
عراقچی نے کہا کہ اگر کوئی عالمی ادارہ بعض ممالک کے اثر و رسوخ میں کام کرتا نظر آئے تو اس پر اعتماد کم ہونا فطری بات ہے۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ پر اعتماد بحال کرنا ایک اہم مسئلہ ہے اور جنرل اسمبلی کا اجلاس دنیا کے سامنے اس بات پر گفتگو کے لیے مناسب موقع ہے کہ یہ اعتماد کیسے ختم ہوا اور اسے دوبارہ کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کا بنیادی مقصد جنرل اسمبلی کو ایک بین الاقوامی فورم کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ایرانی عوام کے حقوق اور مفادات کا دفاع کرنا ہے۔ عراقچی نے کہا کہ یہ دورہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی گئی ’’غیر انسانی جنگ‘‘ اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے پس منظر میں ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات اب بھی جنگی صورت حال کی عکاسی کرتے ہیں اور اسی لیے ایران کی ترجیح اقوام متحدہ جیسے بڑے عالمی فورم پر اپنے عوام کے حقوق اور مفادات کا دفاع کرنا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا موضوع ’’اعتماد بحال کرنا، تبدیلی کا انتظام: ایسی اقوام متحدہ جو سب کے لیے مؤثر ہو‘‘ رکھا گیا ہے۔ اجلاس میں اعلیٰ سطح کی عمومی بحث 22 سے 26 ستمبر اور 28 ستمبر کو نیویارک میں ہوگی، جس میں دنیا بھر کے رہنما عالمی سطح پر درپیش اہم چیلنجوں پر گفتگو کریں گے۔ اجلاس کے ایجنڈے میں موسمیاتی اقدامات، ترقی، سمندر کی سطح میں اضافے، وباؤں سے نمٹنے کی تیاری اور دیگر عالمی امور پر اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔