نیویارک: ایرانی صدر مسعود پیزشکیان 81ویں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت اور خطاب کے بعد نیویارک سے تہران روانہ ہوگئے۔ پریس ٹی وی نے یہ اطلاع دی۔ اپنے دورۂ نیویارک کے دوران پیزشکیان نے سوئٹزرلینڈ، عراق، بنگلہ دیش، ناروے، آرمینیا، نیدرلینڈز، لبنان اور پاکستان کے رہنماؤں کے علاوہ یورپی کونسل کے صدر اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
اس سے قبل سی بی ایس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پیزشکیان نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ’’بداعتمادی کا ماحول‘‘ موجود ہے۔ پروگرام ’’فیس دی نیشن ود مارگریٹ برینن‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں یہ جاننے کی ضرورت ہوگی کہ ’’آخر ہم کس معاملے پر اتفاق رائے تک پہنچنا چاہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’اگر یہ پیغام امریکہ کے صدر یا مذاکرات میں شامل لوگوں تک پہنچتا ہے تو فطری طور پر جس دن وہ اسے قبول کریں گے، اسی دن سے عمل شروع ہوجائے گا۔‘‘
پیزشکیان نے جون میں امریکہ کے ساتھ طے پانے والے جنگ بندی معاہدے، جسے ’’مفاہمت کی یادداشت‘‘ کہا گیا تھا، کے ٹوٹنے کا ذمہ دار بھی امریکہ کو قرار دیا۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے خبر دی کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے سات روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کردی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بمباری شروع کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ اس سے قبل رواں ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بھی ٹرمپ نے ایران کو تباہ کرنے کی کھلی دھمکی دی تھی۔
ٹرمپ نے 22 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا تھا، ’’مجھے ایک بڑا فیصلہ کرنا ہے۔ کیا ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ ہوگا جو اسے دوبارہ تعمیر ہونے اور پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ملک بننے کی اجازت دے، شاید مشرق وسطیٰ یا حتیٰ کہ دنیا کے عظیم ترین ممالک میں سے ایک؟ یا میں اسلامی جمہوریہ کو ختم کردوں، اور یہ کام تیزی سے کروں، تاکہ اسے دوبارہ لوگوں اور ممالک کو ہلاک اور تباہ کرنے کا موقع نہ ملے؟ لیکن مجھے یقین ہے کہ انتخابات کے فوراً بعد ہم ایک معاہدہ کرلیں گے، کیونکہ ان کے لیے ایسا نہ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔‘
‘ دریں اثنا، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعرات کو کہا کہ ایران نے مغربی ایشیا میں جاری تنازع ختم کرنے کے لیے سات روزہ منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور اس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام پر جامع مذاکرات شروع کرنے کی بات کی گئی ہے۔ عراقچی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یہ تجویز رواں سال جون میں ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت سے ملتی جلتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو ایک منصوبہ پیش کیا ہے کہ اگر کچھ شرائط پوری کی جاتی ہیں تو ساتویں دن کے اختتام پر آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی اور مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔ بہتر ہوگا کہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ہی کوئی معاہدہ ہوجائے۔‘‘ جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈے فول سے ملاقات میں عراقچی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی معقول شرائط اور مطالبات امریکی فریق تک پہنچا دیے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ خطے میں سلامتی کی بحالی کے لیے ایران کے خلاف امریکی مداخلت پسندانہ اور جارحانہ کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے پرامن جوہری پروگرام کے سلسلے میں سفارت کاری جاری رکھنے کے ایران کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی فریق مذاکرات میں ایران کی نیک نیتی کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ کا ذمہ دار ایران کو قرار دینا درست نہیں ہے۔