ایران کا امریکہ پر وعدہ خلافی کا الزام

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 28-10-2026
ایران کا امریکہ پر وعدہ خلافی کا الزام
ایران کا امریکہ پر وعدہ خلافی کا الزام

 



تہران: ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بدھ کو امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے 14 نکاتی مفاہمت کی یادداشت سے متعلق بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے واشنگٹن پر اپنے وعدوں سے پھرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اپنے طرز عمل کے لیے جواب دہ ہونا چاہیے اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے بچنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بقائی نے کہا، ’’سفارت کاری کے تئیں واشنگٹن کی بے اعتنائی ایک بار پھر واضح ہو گئی ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ اعتراف کہ انہیں اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پر کبھی یقین نہیں تھا اور وہ اسے وقت کا ضیاع سمجھتے تھے، ان کے سفارتی وعدوں کی کھوکھلی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔‘

‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ واشنگٹن کا طویل ریکارڈ رہا ہے کہ وہ اپنے وعدوں سے پھر جاتا ہے اور جب بین الاقوامی ذمہ داریاں اس کے لیے مشکل یا غیر موزوں ہو جاتی ہیں تو انہیں نظر انداز کرنے لگتا ہے۔ ایرانی ترجمان نے یورپی ممالک اور واشنگٹن کے دیگر حامیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا، ’’یورپی ممالک اور واشنگٹن کے دیگر حامیوں کے پاس اس بات کا کوئی جواز نہیں ہے کہ وہ امریکی غلط کاریوں پر پردہ ڈالتے رہیں اور اسے جواب دہی سے بچاتے رہیں۔‘

‘ بقائی کے مطابق، وعدہ خلافیوں کو معاف نہیں کیا جا سکتا، بین الاقوامی قانون کا اطلاق اپنی مرضی سے نہیں ہونا چاہیے اور سیاسی بیانات کے ذریعے امریکہ کو اس کی ذمہ داریوں سے بری نہیں کیا جا سکتا۔ بقائی کا یہ بیان ایران کے ساتھ جاری تنازع کے بارے میں ٹرمپ کے حالیہ تبصروں کے بعد سامنے آیا ہے۔ بدھ کو امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر لباک میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ شروع نہیں کی تھی، بلکہ ایران 1979 سے امریکہ کے خلاف جنگ کرتا آ رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا، ’’امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ شروع نہیں کی۔

ایران 1979 سے امریکہ کے خلاف جنگ چھیڑے ہوئے ہے۔ اس نے ہمارے بہت سے عظیم لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔ اس نے ہمارے ہزاروں فوجیوں کو مارا اور بہت سے دوسرے فوجیوں کو زخمی کیا ہے۔‘‘ انہوں نے اس معاملے سے نمٹنے میں سابق امریکی رہنماؤں کی کارکردگی پر بھی تنقید کی۔ ٹرمپ کے بقول، سابق رہنماؤں کو یہ مسئلہ بہت پہلے حل کر لینا چاہیے تھا، لیکن ان میں ایسا کرنے کی نہ ہمت تھی اور نہ ہی سمجھ بوجھ۔ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے وقت سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا، ’’کسی نے مجھ سے پوچھا کہ ایران میں جنگ کب ختم ہوگی؟ میں نے جواب دیا کہ جب میں چاہوں گا، تب ختم ہوگی۔‘‘ دوسری جانب اسرائیل میں انتخابی نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے یروشلم کے بینینی ہاؤما انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں اپنی جماعت لیکوڈ کے انتخابی مرکز میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو امریکہ کے ساتھ مل کر ایران سے لاحق خطرے کا مقابلہ کرنے کا ایک اہم موقع ملا ہے۔

نیتن یاہو نے کہا، ’’میں آپ سب سے کہنا چاہتا ہوں کہ اسرائیل کے پاس اب اپنے شراکت دار ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر ایک تاریخی اور غیر معمولی موقع ہے کہ وہ ایرانی حکومت سے لاحق خطرے کو ختم کر سکے۔‘‘ اس سے قبل 26 اکتوبر کو امریکی صدر ٹرمپ نے ریاست مسی سپی میں ایک انتخابی جلسے کے دوران ایران کے ساتھ جنگ بندی کے بارے میں کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک مختصر جنگ بندی ہوئی تھی، جسے وہ زیادہ پسند نہیں کرتے تھے اور وقت کا ضیاع سمجھتے تھے۔ تاہم، ان کے مطابق، انہوں نے ماہرین کی بات سننے کو ترجیح دی تھی۔ یہ بیان عرب نیوز چینل العربیہ کے حوالے سے سامنے آیا تھا۔

ادھر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے منگل کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان انہوں نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری میجر جنرل محسن رضائی سے ملاقات کے دوران قومی اور علاقائی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ایکس پر جاری متعدد پوسٹوں میں خامنہ ای سے منسوب بیانات کے مطابق، ملاقات میں قومی سلامتی، علاقائی تعاون اور ایران کے تزویراتی مفادات پر گفتگو ہوئی۔

ایک بیان میں کہا گیا کہ اسلامی انقلاب کے رہنما امام سید مجتبیٰ خامنہ ای نے محسن رضائی سے ملاقات کی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں ثقافت، سیاست، معیشت اور سلامتی کے 4 شعبوں کے باہمی تعلق کی اہمیت پر زور دیا۔ ایک اور بیان کے مطابق، خامنہ ای نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے کے ذریعے قومی اور علاقائی سلامتی کے تحفظ اور پڑوسی ممالک کے ساتھ باہمی اور دیرپا مفادات کی بنیاد پر دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔ رپورٹ کے مطابق، ملاقات کے دوران انہوں نے ایران کی قومی مزاحمت کے نتائج میں دشمن کی مایوسی کو بھی ایک اہم کامیابی قرار دیا۔