ایران کا اسرائیل اور امریکہ پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 17-10-2026
ایران کا اسرائیل اور امریکہ پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
ایران کا اسرائیل اور امریکہ پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام

 



بیروت: ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا ہے کہ خطے میں امن قائم کرنے کے لیے تمام محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی ایک علاقے میں بھی لڑائی جاری رہی تو پورے خطے میں جنگ کی آگ بھڑکتی رہے گی۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے لبنان کے ٹیلی ویژن نیٹ ورک المیادین کے حوالے سے بتایا کہ خطیب زادہ نے کہا کہ ایران لبنان پر اسرائیلی حملوں اور جنگ کے خاتمے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔

ان کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان رواں سال جون کے وسط میں اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت میں بھی اس مقصد کو شامل کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت میں لبنان ایک اہم موضوع تھا اور بیروت کے دورے کے دوران انہوں نے دونوں فریقوں کو قریب لانے کی کوشش کی۔ ایران کے سینئر عہدیدار بدھ کے روز مقامی رہنماؤں سے بات چیت کے لیے لبنان کے دارالحکومت پہنچے تھے۔ انہوں نے ان ملاقاتوں کو ’’اچھا‘‘ قرار دیا اور تصدیق کی کہ انہوں نے پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری، وزیر اعظم نواف سلام اور وزارت خارجہ کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔

خطیب زادہ نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل کو لبنان اور شام کے خطے میں اپنی جنگ بند کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں علاقوں میں ہونے والے واقعات ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کے مطابق، ایران کے بنیادی مطالبات میں سے ایک تمام جنگوں کا خاتمہ ہے۔ اگر کسی ایک محاذ پر بھی لڑائی جاری رہتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ جنگ اب بھی پورے خطے میں جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی اصول کے تحت تہران نے لبنان میں جنگ ختم کرانے کی کوششیں کیں اور اس مقصد کے حصول میں کامیابی حاصل کی۔

خطیب زادہ نے واشنگٹن اور تل ابیب پر الزام لگایا کہ انہوں نے ایران اور لبنان پر حملے کرکے اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کرانے اور لبنان پر اسرائیلی حملے رکوانے کی کوششیں تعطل کا شکار ہوگئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے وعدوں پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا اور امریکہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اتحادی کو قابو میں رکھے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ نے ایران کے خلاف امریکی جنگ کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے فضائی دفاعی نظام اور حملوں کو روکنے کی اس کی صلاحیت کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ان کے مطابق، ایران نے اپنے وجود کو لاحق خطرے والی جنگ کا مقابلہ کیا ہے اور وہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ جاری رکھے گا۔ خطیب زادہ نے کہا کہ ایران اپنے پُرامن جوہری پروگرام کے حوالے سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی اور امریکہ کے سوالات کے جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے ایجنسی کی 15 سے زیادہ رپورٹوں کا حوالہ دیا، جن کے مطابق ایران نے اپنے وعدوں کی پاسداری کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران نے سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی پیش کش بھی کی تھی۔ ان کے مطابق، ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن اگر اس پر جنگ مسلط کی گئی تو وہ اس کا مقابلہ کرے گا۔