ہند-امریکہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 05-10-2026
ہند-امریکہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں
ہند-امریکہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں

 



نئی دہلی: مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے پر مذاکرات ایک ایسے مرحلے پر پہنچ گئے ہیں جہاں دونوں جانب سے مزید رعایت دینا مشکل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ باقی بات چیت میں محدود گنجائش کے اندر سمجھوتے کی راہ تلاش کرنا اہم ہوگا۔

میونخ لیڈرز میٹنگ میں خطاب کرتے ہوئے نرملا سیتارمن نے کہا، ’’معاہدے پر مذاکرات اب بھی جاری ہیں، اگرچہ ہم یہ سمجھنا چاہیں گے کہ دونوں فریق ایک ایسے مرحلے پر پہنچ گئے ہیں جہاں اس سے آگے کچھ دینا یا لینا بہت، بہت مشکل ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر کہیں گنجائش موجود ہوئی تو دونوں فریق اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ معاہدے پر اب بھی سخت اور انتہائی سنجیدگی سے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ وزیر خزانہ نے بھارت اور امریکہ کے اقتصادی تعلقات میں تجارتی عدم توازن کو ایک اہم پہلو قرار دیا۔ نرملا سیتارمن نے کہا، ’’لیکن بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات کی نمایاں خصوصیت کیا ہے؟ تجارتی توازن واضح طور پر ہمارے حق میں ہے۔

‘‘ انہوں نے کہا کہ امریکہ فطری طور پر اس عدم توازن کو کم کرنا چاہے گا اور واشنگٹن ان نقصانات کا ازالہ کرنا چاہتا ہے جو اس کے خیال میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران جمع ہوئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی تجارتی مذاکرات کی نوعیت بھی بدل رہی ہے اور ممالک روایتی مذاکرات کے علاوہ دیگر اقدامات کے ذریعے تجارتی عدم توازن دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مذاکرات ہی وہ واحد پلیٹ فارم تھے جس کے ذریعے ممالک تجارتی عدم مساوات اور یک طرفہ صورت حال کو اجاگر کرکے اسے درست کرنے کی بات کرتے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’ٹیرف مذاکرات کا ایک ذریعہ تھا اور اسے ایک مخصوص نظام کے تحت نافذ کیا جاتا تھا۔

آج بھی نظام موجود ہے، لیکن ٹیرف بڑھ رہے ہیں۔‘‘ تاہم انہوں نے زور دیا کہ ممالک کو اب بھی مذاکرات کرنے اور ’’کچھ دینے اور کچھ لینے‘‘ کی راہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت اور یورپی یونین کے تجارتی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے سیتارمن نے اسے تجارتی معاہدوں میں ملکی مفادات کے تحفظ کے ساتھ آگے بڑھنے کی بھارت کی حکمت عملی کی ایک بڑی مثال قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت نے اپنی 92.5 فیصد ٹیرف لائنیں اور تقریباً 97 فیصد ٹیرف ویلیو کھول دی ہے، جبکہ یورپی یونین نے قدر کے لحاظ سے 99 فیصد اور ممکنہ طور پر ٹیرف لائنوں کے لحاظ سے تقریباً 97 فیصد مارکیٹ کھولی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے جوتے، ٹیکسٹائل، کھلونے اور تیار شدہ مصنوعات جیسے محنت طلب شعبوں میں روزگار کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔ ان میں سے کئی شعبے چھوٹی اور مائیکرو صنعتوں سے وابستہ ہیں۔ سیتارمن نے کہا، ’’یہ سب مائیکرو اور چھوٹی و درمیانی صنعتوں کے شعبے میں آتے ہیں، جہاں محنت کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی منڈی تک بہتر رسائی سے ’’زیادہ برآمدات اور زیادہ روزگار‘‘ پیدا ہو سکتا ہے۔ وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ کثیر ملکی اداروں کی کمزوری کے باعث دو طرفہ تجارتی معاہدوں کی اہمیت بڑھ رہی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ’’کثیر ملکی نظام ختم نہیں ہونے والا اور نہ ہی اسے ختم ہونا چاہیے۔‘‘

قومی دارالحکومت میں منعقدہ میونخ لیڈرز میٹنگ میں تقریباً 100 اعلیٰ سطح کے فیصلہ ساز اور ماہرین شرکت کر رہے ہیں۔ اجلاس میں جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے دور میں ابھرتی اور درمیانی طاقتوں کے درمیان تعاون کے امکانات، جغرافیائی اقتصادی معاملات، تجارت، رابطے، بحری سلامتی، دفاعی تعاون اور دیگر اہم عالمی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔