اقوام متحدہ کے دوہرے معیار پر ہندوستان کی سخت تنقید

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 21-10-2026
اقوام متحدہ کے دوہرے معیار پر ہندوستان کی سخت تنقید
اقوام متحدہ کے دوہرے معیار پر ہندوستان کی سخت تنقید

 



نیویارک: اقوام متحدہ اور اس سے وابستہ اداروں کے دوہرے معیار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ہندوستان میں احتجاجی مظاہروں کو مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ قرار دینے کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندوں کے بیانات اور فرانس سمیت یورپ کے دیگر حصوں میں پرتشدد مظاہروں پر ان کے مختلف مؤقف نے اس بحث کو جنم دیا ہے۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان نے واضح کیا کہ انسانی حقوق کو سیاسی دباؤ ڈالنے یا مخصوص ملکوں کو نشانہ بنانے کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

ہندوستان کا یہ سخت ردعمل اقوام متحدہ کے ماہرین کے ان الزامات کے بعد سامنے آیا، جن میں کہا گیا تھا کہ ہندوستانی حکام پُرامن اجتماع کے حق پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں اور لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے اپنے بیان میں کہا، ’’ہم نے بارہا ہندوستانی حکام کو پُرامن اجتماع پر غیر ضروری پابندیوں، طاقت کے حد سے زیادہ استعمال، من مانی حراستوں، جبری گمشدگیوں اور طلبہ کارکنوں کو نشانہ بنانے سمیت دیگر معاملات پر اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔‘‘

ماہرین نے مزید کہا، ’’ہم حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ طاقت کے حد سے زیادہ استعمال کو فوری طور پر بند کریں، اجتماعات پر عائد عمومی پابندیاں واپس لیں اور ڈیجیٹل نگرانی کے غلط استعمال سے گریز کریں۔‘‘ اس کے برعکس، فرانس اور یورپ کے دیگر علاقوں میں پرتشدد مظاہروں کے خلاف پولیس کی کارروائی پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک کا مؤقف نسبتاً نرم بتایا گیا ہے۔ ترک نے بعض مظاہرین کو ’تخریب کار‘ بھی قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’میں تشدد کے تمام واقعات کی مذمت کرتا ہوں اور اس میں ملوث تمام افراد سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ کشیدگی کم کریں اور مزید تشدد کو روکیں۔ آگے بڑھنے کا بہترین اور واحد راستہ جامع اور محفوظ مکالمہ ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’میں ان لوگوں کی کارروائیوں پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں جو مظاہروں کا فائدہ اٹھا کر سرکاری اور نجی املاک کے خلاف تشدد اور توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔‘‘ منگل کے روز مقامی وقت کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے والی سفارت کار برکھا تامرکار نے کہا کہ ہندوستان کا آئین انسانی حقوق کے تحفظ اور قانونی کارروائی کے منصفانہ طریقے کو یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے آئین کی دفعہ 21 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دفعہ بنیادی حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ان کا یہ بیان اقوام متحدہ کے ماہرین کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے مبینہ حد سے زیادہ استعمال اور پُرامن احتجاج پر پابندیوں کے حوالے سے تشویش ظاہر کیے جانے کے بعد سامنے آیا۔ برکھا تامرکار نے زور دے کر کہا کہ انسانی حقوق کو سیاسی دباؤ ڈالنے یا مخصوص ملکوں کو منتخب طور پر نشانہ بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’ہندوستان ایسے کسی بھی اقدام کی سخت مخالفت کرتا ہے جس کے تحت غیر مصدقہ الزامات، نامکمل اعداد و شمار یا ایسی رپورٹ، جس میں ہندوستان کے بارے میں کوئی مخصوص مشاہدہ شامل نہ ہو، کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے خلاف منفی تاثر قائم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔

انسانی حقوق کو سیاسی دباؤ یا مخصوص ملکوں کو نشانہ بنانے کا ذریعہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔‘‘ انہوں نے انسانی حقوق کے معاملات میں غیر جانب دارانہ اور شواہد پر مبنی طرزِ عمل اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ہندوستانی سفارت کار نے انسانی حقوق سے متعلق شکایات کے ازالے میں قومی انسانی حقوق کمیشن اور ریاستی انسانی حقوق کمیشنوں کے کردار کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ غیر مصدقہ الزامات، نامکمل اعداد و شمار اور ایسی رپورٹوں پر انحصار نہیں کیا جانا چاہیے جن میں ہندوستان کے حالات سے متعلق مخصوص مشاہدات موجود نہ ہوں۔ ہندوستان کا مؤقف رہا ہے کہ انسانی حقوق کے معاملات پر گفتگو غیر جانب داری، باہمی مکالمے اور قابلِ تصدیق معلومات کی بنیاد پر ہونی چاہیے، نہ کہ منتخب ملکوں کی جانچ پڑتال یا سیاسی مفادات کے تحت۔