نیویارک: ہندوستان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کے انتخاب میں حصہ لینے کے لیے اس کی اہم ترجیحات میں امن مشن کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ ہندوستان نے امن مشن کی کارروائیوں کو مؤثر بنانے اور ان میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کی حفاظت یقینی بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔ ہندوستانی مشن کے فوجی مشیر کرنل ترونندر پرتاپ سنگھ نے جمعرات کو کہا، ’’ہم امن مشن کو اقوام متحدہ کے بنیادی مقاصد کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے 2028-29 کی مدت کے لیے سلامتی کونسل کی رکنیت کی اپنی امیدواری میں اسے ایک اہم ترجیح قرار دیا ہے۔
‘‘ اس مدت کے لیے سلامتی کونسل کی نشست کا انتخاب اگلے سال ہونے والا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم اقوام متحدہ کے امن مشن اور ایسے نظام کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہیں جو زیادہ وسائل سے لیس ہو، زیادہ محفوظ ہو اور دنیا کی بہتر نمائندگی کرتا ہو جس کی خدمت وہ انجام دیتا ہے۔‘‘ امن مشن میں ہندوستان کی تاریخی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کرنل سنگھ نے کہا، ’’ہندوستان اب تک 50 امن مشنوں میں 3 لاکھ سے زیادہ فوجی تعینات کر چکا ہے، جس کے باعث وہ اقوام متحدہ کے امن مشن میں سب سے زیادہ فوجی فراہم کرنے والا ملک ہے۔‘
‘ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی چوتھی کمیٹی میں امن مشن کی کارروائیوں کے جامع جائزے پر سالانہ بحث سے خطاب کرتے ہوئے سنگھ نے امن اہلکاروں کے تحفظ اور ان پر حملے کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہندوستان کی سابقہ کوششوں کا ذکر کیا۔ یہ کمیٹی خصوصی سیاسی معاملات اور نوآبادیاتی نظام کے خاتمے سے متعلق امور دیکھتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اگست 2021 میں سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران ہندوستان نے ایک ایسی قرارداد کی قیادت کی تھی جس میں امن مشن کے اہلکاروں کے خلاف جرائم پر جواب دہی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ نئی دہلی اس معاملے میں اپنی قیادت کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ امن مشن کے اہلکاروں پر منصوبہ بند حملوں کو اقوام متحدہ کی کارروائیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے اس قرارداد میں امن مشن کی میزبانی کرنے والے تمام ممالک سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ اقوام متحدہ کے امن مشن میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کے قتل اور ان کے خلاف ہر طرح کے تشدد کے واقعات پر جواب دہی یقینی بنائیں۔ موجودہ دور کے سکیورٹی ماحول کا ذکر کرتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے نیلے ہیلمٹ والے امن اہلکاروں کو آج غیر روایتی اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس خطرات کا سامنا ہے۔ امن اہلکاروں پر حملہ کرنے والوں کو جواب دہ ٹھہرایا جانا ضروری ہے۔
ان کی حفاظت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ہندوستان امن مشن کے اہلکاروں کی سلامتی اور تحفظ کو امن مشن کے اہم ترین پہلوؤں میں سے ایک سمجھتا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اقوام متحدہ کے مشنوں میں خدمات انجام دیتے ہوئے 184 ہندوستانی اہلکار اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ سنگھ نے وکالت کی کہ فوج اور پولیس فراہم کرنے والے ممالک کو سلامتی کونسل کی جانب سے امن مشن کے مینڈیٹ کی تشکیل میں منظم طریقے سے اپنی رائے پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
انہوں نے اس ضرورت پر بھی زور دیا کہ کسی بھی مینڈیٹ کو منظور کرنے یا اس پر نظرثانی کرنے سے پہلے فوجی اور پولیس اہلکار فراہم کرنے والے ممالک سے مشاورت کے لیے ایک باقاعدہ ادارہ جاتی نظام قائم کیا جائے۔ سنگھ نے کہا کہ امن مشن اس وقت زیادہ کامیاب ہوتے ہیں جب انہیں واضح سیاسی نتائج کے حامل وسیع تر سیاسی عمل اور امن اہلکاروں کے لیے مناسب وسائل کی حمایت حاصل ہو۔ انہوں نے مزید کہا، ’’ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ امن مشن کی منظوری کے وقت ہی اس کی صلاحیتوں میں اضافے اور ضروری وسائل کی فراہمی کا انتظام کیا جائے۔‘‘