باکو: ہندوستان نے ایشیا میں رابطے اور اعتماد سازی کے اقدامات سے متعلق کانفرنس (سیکا) کے رکن ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ سرحد پار دہشت گردی سمیت ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف متحد ہوں۔ ہندوستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ علاقائی رابطے کے تمام منصوبوں میں رکن ممالک کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔ وزارت خارجہ میں وزیر مملکت کیرتی وردھن سنگھ نے جمعرات کو آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ سیکا کے ساتویں سربراہی اجلاس میں ہندوستانی وفد کی قیادت کی۔ اجلاس کے مکمل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جامع کثیر ملکی تعاون، علاقائی سلامتی اور امن کے تئیں ہندوستان کے عزم کو اجاگر کیا۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، کیرتی وردھن سنگھ نے سیکا کی سرگرمیوں میں ہندوستان کی فعال شرکت کا ذکر کیا اور رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنی مشترکہ کوششوں کو مضبوط بنائیں۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ وزیر مملکت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ علاقائی رابطے کے تمام منصوبے شفاف، مالی اعتبار سے قابل عمل اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والے ہونے چاہییں۔ ساتھ ہی ان منصوبوں میں تمام رکن ممالک کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا سختی سے احترام کیا جانا چاہیے۔
کیرتی وردھن سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں بتایا کہ انہوں نے سربراہی اجلاس کے مکمل اجلاس سے خطاب کیا اور امن، تعاون، دوستی اور مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہندوستان کے تصور ’’وسودھیو کٹمبکم‘‘ کو اہم قرار دیا۔ اس سنسکرت اصطلاح کا مطلب ہے کہ پوری دنیا ایک خاندان ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا، ’’میں نے امن، تعاون، دوستی اور مشترکہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہندوستان کے تصور ’وسودھیو کٹمبکم‘ یعنی پوری دنیا ایک خاندان ہے، پر زور دیا۔ میں نے تمام رکن ممالک سے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی۔‘
‘ اس سربراہی اجلاس میں سیکا کے رکن ممالک نے شرکت کی اور ایشیا میں علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے، ایک دوسرے پر اعتماد بڑھانے اور امن کو فروغ دینے کے طریقوں پر غور کیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق، کثیر ملکی تعاون کے بارے میں ہندوستان کے نقطۂ نظر کو پیش کرتے ہوئے کیرتی وردھن سنگھ نے مشترکہ علاقائی مسائل سے نمٹنے کے لیے جامع تعاون اور باہمی اتفاق رائے پر مبنی کوششوں کی اہمیت اجاگر کی۔ سیکا کے ساتویں سربراہی اجلاس میں ’’باکو اعلامیہ‘‘ منظور کیا گیا۔ اس میں ایشیا میں ترقی کو فروغ دینے کے لیے اعتماد سازی کے مختلف اقدامات کے تحت رابطوں کو وسعت دینے، ڈیجیٹل نظام کو فروغ دینے اور پائیدار ترقی کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ہندوستان سیکا کا بانی رکن ہے۔ اس نے ایک بار پھر اس فورم کے تئیں اپنے عزم کا اظہار کیا اور اسے پورے براعظم میں بات چیت، باہمی اتفاق رائے اور تعاون کو فروغ دینے کا اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔ سیکا ایک کثیر ملکی فورم ہے جس کا مقصد ایشیا میں تعاون، سلامتی اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ علاقائی سلامتی کا عالمی استحکام سے گہرا تعلق ہے۔
اس فورم کی تجویز قازقستان کے بانی صدر نورسلطان نظربایف نے 1992 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 47ویں اجلاس کے دوران پیش کی تھی۔ اس کا مقصد ایشیا میں علاقائی سلامتی اور امن کے لیے ایک مشترکہ نظام قائم کرنا تھا۔ سیکا کے رکن ممالک میں ہندوستان، آذربائیجان، افغانستان، بحرین، کمبوڈیا، بنگلہ دیش، چین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل، اردن، قازقستان، کویت، کرغزستان، منگولیا، پاکستان، فلسطین، قطر، جنوبی کوریا، روس، سری لنکا، تاجکستان، تھائی لینڈ، ترکی، متحدہ عرب امارات، ازبکستان اور ویتنام شامل ہیں۔ اس سربراہی اجلاس میں ہندوستان کی شرکت دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائی، قومی خودمختاری کے احترام اور جامع علاقائی تعاون کو فروغ دینے کے لیے سیکا کے عمل میں اس کی مسلسل دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے۔