نیویارک: ہندوستان نے منگل کو اقوام متحدہ کے مقامی باشندوں کے حقوق سے متعلق خصوصی نمائندے کی رپورٹ میں ملک کے بارے میں دیے گئے ایک ’’بے بنیاد حوالے‘‘ کو مسترد کر دیا۔ ہندوستان نے اس سلسلے میں جنگلاتی حقوق کے قانون کے تحت زمین کے حقوق سے متعلق سرکاری اعداد و شمار پیش کیے اور قبائلی برادریوں کے لیے آئینی تحفظات اور خصوصی فلاحی منصوبوں کا ذکر کیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کے 81ویں اجلاس میں ہندوستان کی جانب سے بیان دیتے ہوئے فرسٹ سکریٹری انوج سوروپ نے بچوں کے حقوق کے فروغ اور تحفظ، مقامی باشندوں کے حقوق اور انسانی حقوق کونسل کی رپورٹ سے متعلق امور پر ہندوستان کا موقف پیش کیا۔
مقامی باشندوں کے حقوق پر بحث کے دوران ہندوستان نے 2007 کے اقوام متحدہ کے اعلامیے کی حمایت کا اعادہ کیا، جس میں مقامی باشندوں کے حقوق کا ذکر ہے۔ تاہم، اس نے خصوصی نمائندے کی رپورٹ میں ہندوستان کے بارے میں کیے گئے تبصرے کو مسترد کر دیا۔ ہندوستان کا یہ ردعمل مقامی باشندوں کے حقوق سے متعلق خصوصی نمائندے کی اگست 2025 کی رپورٹ کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کا آئین درج فہرست قبائل کے لیے انتظام کرتا ہے، لیکن ان کی شناخت حقوق کی بنیاد پر ہونے کے بجائے زیادہ تر انتظامی نوعیت کی ہے۔ ہندوستان نے اس تبصرے کو مسترد کرتے ہوئے جنگلاتی حقوق کے قانون کے تحت زمین کے حقوق کے دعووں سے متعلق سرکاری اعداد و شمار پیش کیے اور قبائلی برادریوں کو حاصل آئینی تحفظات پر زور دیا۔ اس کے علاوہ قبائلی علاقوں میں رہائش، پینے کے پانی، صفائی، صحت، تعلیم اور رابطے کی سہولتوں کے لیے چلائے جانے والے خصوصی منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔ ہندوستان نے کہا کہ یہ اقدامات ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ یعنی سب کے ساتھ مل کر سب کی ترقی کے اصول کے تحت کیے جا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’خصوصی نمائندے کی رپورٹ میں ہندوستان کے بارے میں دیے گئے بے بنیاد حوالے کو مسترد کیا گیا اور اس سلسلے میں جنگلاتی حقوق کے قانون کے تحت زمین کے حقوق کے دعووں سے متعلق سرکاری اعداد و شمار پیش کیے گئے۔ قبائلی برادریوں کے لیے آئینی تحفظات اور رہائش، پانی، صفائی، صحت، تعلیم اور رابطے کی سہولتوں سے متعلق خصوصی منصوبوں کو اجاگر کیا گیا، جو ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کے اصول کے تحت چلائے جا رہے ہیں۔‘‘ اپنے بیان میں ہندوستان نے مقامی باشندوں کی شناخت کے سوال پر بھی اپنا موقف دہرایا۔
ہندوستان نے کہا کہ آزادی کے وقت ملک کی پوری آبادی اور اس کے بعد آنے والی نسلوں کو مقامی باشندے تصور کیا جاتا ہے۔ ہندوستان نے اپنی تہذیبی روایت میں کثرت پسندی اور پُرامن بقائے باہمی کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے رکن کی حیثیت سے تعمیری اور تعاون پر مبنی کردار کا ذکر کیا۔ اس نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق اداروں پر زور دیا کہ وہ معاملات کو سیاسی رنگ دینے اور امتیازی رویہ اختیار کرنے سے گریز کریں اور ثقافتی و تاریخی پس منظر کا احترام کریں۔ بچوں کے حقوق کے معاملے پر انوج سوروپ نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی کم عمری میں شادی اور جبری شادی سے متعلق رپورٹ کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے بچوں کی شادیوں میں نمایاں کمی لانے کے لیے ہندوستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو تسلیم کیے جانے کا ذکر کیا۔ ہندوستان نے پائیدار ترقی کے ہدف 5.3 کے مطابق ’’بال ویواہ مکت بھارت‘‘ یعنی بچوں کی شادی سے پاک ہندوستان مہم کے ذریعے 2030 تک بچوں کی شادیوں کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مشن کی پوسٹ میں کہا گیا، ’’سکریٹری جنرل کی کم عمری میں شادی اور جبری شادی سے متعلق رپورٹ کا خیرمقدم کیا گیا، جس میں بچوں کی شادیوں میں نمایاں کمی لانے کے لیے ہندوستان کے اقدامات کو تسلیم کیا گیا ہے۔
ہندوستان نے پائیدار ترقی کے ہدف 5.3 کے مطابق ’بال ویواہ مکت بھارت‘ مہم کے ذریعے 2030 تک بچوں کی شادیوں کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔‘‘ آئینی تحفظات اور بچوں کی فلاح و بہبود کے شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے ہندوستان نے آئین کی دفعہ 21 اے کے تحت مفت اور لازمی تعلیم کے حق کا حوالہ دیا۔ ہندوستان نے بتایا کہ 2025 میں ان بچوں کی تعداد میں ایک چوتھائی کمی آئی جنہیں معمول کے حفاظتی ٹیکوں میں سے کوئی بھی ٹیکہ نہیں لگا تھا۔ اس کے علاوہ ثانوی اسکولوں میں تعلیم چھوڑنے کی شرح گھٹ کر 7 فیصد رہ گئی اور 99.5 فیصد اسکولوں میں پینے کے صاف پانی کی سہولت دستیاب ہے۔
ہندوستان نے ترقیاتی اور سماجی تحفظ کے اپنے وسیع تر اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں 25 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو کثیر جہتی غربت سے باہر نکالا گیا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ بین الاقوامی محنت تنظیم کے مطابق ملک میں ایک ارب سے زیادہ لوگوں کو سماجی تحفظ کی سہولتیں حاصل ہیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے کام کاج سے متعلق اپنا موقف دہراتے ہوئے ہندوستان نے ایک مؤثر، غیر جانب دار اور قابل اعتماد انسانی حقوق کونسل کی ضرورت پر زور دیا اور تمام ارکان کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رکھنے کی آمادگی ظاہر کی۔