ہندوستان بحران زدہ علاقوں میں پھنسے شہریوں کو لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 23-10-2026
ہندوستان بحران زدہ علاقوں میں پھنسے شہریوں کو لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے
ہندوستان بحران زدہ علاقوں میں پھنسے شہریوں کو لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے

 



برلن: ہندوستان کے مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے جمعہ کو کہا کہ ہندوستان نے دنیا بھر میں بحران سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے اپنے شہریوں کی حفاظت اور فلاح و بہبود کو ہمیشہ ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مشکل حالات میں اپنے شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے صرف ہدایات جاری کرنے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ عملی اقدامات بھی کرتی ہے۔ برلن میں ہندوستانی برادری سے خطاب کرتے ہوئے گوئل نے کہا کہ بیرون ملک مشکلات کا سامنا کرنے والے ہندوستانیوں کی خیریت کو یقینی بنانا حکومت کی مستقل ترجیح رہی ہے۔ ضرورت پڑنے پر ہندوستان نے دوسرے ملکوں کے شہریوں کو بھی وہاں سے نکالنے میں مدد کی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’زیادہ تر دوسرے ممالک صرف ایک ہدایت جاری کردیتے ہیں کہ گھر واپس آجاؤ۔ لیکن کیسے واپس آنا ہے، یہ حکومت کی ذمہ داری نہیں سمجھی جاتی۔ اس کے برعکس، ہم اکثر ہندوستانیوں کے ساتھ دوسرے ملکوں کے لوگوں کو بھی وہاں سے نکال کر محفوظ مقامات پر پہنچاتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں۔‘‘ پیوش گوئل نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد یوکرین سے ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت نکالنے کی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ شروع ہونے کے وقت وہاں تقریباً 22,000 ہندوستانی موجود تھے، جن میں زیادہ تر طلبہ تھے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے انخلاء کی کارروائیوں کی ذاتی طور پر نگرانی کی تھی۔ اس مقصد کے لیے نئی دہلی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی تھی، جب کہ ہندوستانی شہریوں کی واپسی کو آسان بنانے کے لیے 4 سینئر وزرا کو یوکرین کے پڑوسی ملکوں میں بھیجا گیا تھا۔ گوئل نے کہا کہ جنگ شدت اختیار کرنے سے پہلے ہی یوکرین میں موجود ہندوستانیوں سے وطن واپس آنے کی اپیل کی گئی تھی، لیکن جنگ شروع ہونے کے بعد صورت حال مزید پیچیدہ ہوگئی۔

انہوں نے کہا، ’’اس وقت وزیر اعظم مودی نے دہلی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی، جس کی وہ خود نگرانی کرتے تھے۔ وہ اس کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے، صورت حال کی معلومات حاصل کرتے، رہنمائی کرتے اور ضروری ہدایات دیتے تھے۔‘‘ مرکزی وزیر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی بحرانوں کے دوران بیرون ملک موجود ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کے لیے حکومت مربوط کارروائیوں اور منظم انخلاء کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔ پیوش گوئل نے اپنے خطاب میں کیرالہ کی 6,000 نرسوں کی خدمات کا بھی ذکر کیا، جو 1960 کی دہائی میں مغربی جرمنی میں نرسوں کی شدید قلت دور کرنے کے لیے وہاں گئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ان نرسوں کی خدمات نے ہندوستان اور جرمنی کے درمیان اعتماد اور دوستانہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ گوئل نے کہا، ’’1960 کی دہائی میں جب مغربی جرمنی کے اسپتالوں میں نرسوں کی شدید کمی تھی تو وہاں کی حکومت نے کیرالہ سے 6,000 نرسوں کو بلایا۔ انہوں نے اسپتالوں اور نگہداشت کے مراکز میں کام کیا، مریضوں کی بہترین دیکھ بھال کی، جرمن خاندانوں کی مدد کی اور ایک نئے ملک میں اپنی زندگی بسائی۔‘

‘ انہوں نے کہا کہ ان نرسوں کی خدمات صرف صحت کے شعبے تک محدود نہیں تھیں، بلکہ ان سے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان روابط مضبوط ہوئے اور باہمی اعتماد میں اضافہ ہوا۔ گوئل نے کہا کہ ان 6,000 نرسوں کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ان کی اہمیت کو کم کرکے دیکھا جاسکتا ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ہندوستان اور جرمنی کے تعلقات ایک اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہوچکے ہیں۔

گزشتہ سال دونوں ملکوں نے اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کے 25 سال مکمل ہونے کا جشن منایا، جب کہ اس سال دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سال مکمل ہورہے ہیں۔ پیوش گوئل کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہندوستان اور جرمنی تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے کاروباری ادارے بھی اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے اور نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان مواقع میں ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے سے پیدا ہونے والے امکانات بھی شامل ہیں۔