امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے ہندوستان کو ٹیرف اور ویزا معاملات میں راحت ملنے کی امید

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 05-11-2026
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے ہندوستان کو ٹیرف اور ویزا معاملات میں راحت ملنے کی امید
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے ہندوستان کو ٹیرف اور ویزا معاملات میں راحت ملنے کی امید

 



نئی دہلی: امریکہ کے سابق سینئر سفارت کار ودیا بھوشن سونی نے کہا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج، جن میں ڈیموکریٹس نے نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے کانگریس پر کنٹرول قائم کرنے کی پوزیشن حاصل کی ہے، انتظامیہ کے اختیارات پر مؤثر نگرانی کا راستہ ہموار کریں گے۔ اس سے تجارتی تعلقات میں استحکام آئے گا اور ہندوستان کو اہم اسٹریٹجک اور اقتصادی شعبوں میں نئے مواقع مل سکتے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے سونی نے تجزیہ کیا کہ امریکی قانون ساز اداروں میں سیاسی تبدیلی سے ٹیرف، ویزا پابندیوں، مجوزہ ہندوستان-امریکہ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) اور کواڈ تعاون سے متعلق دو طرفہ پالیسیوں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

سونی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے عائد کیے گئے تجارتی محصولات کو غیر حقیقت پسندانہ اور غیر مستقل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس کی جانب سے انتظامیہ کے فیصلوں کی زیادہ سخت جانچ پڑتال سے ان اقدامات پر روک لگ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہر طرح کے ٹیرف، انتہائی غیر معقول محصولات عائد کیے گئے اور وہ اس معاملے میں بچتے رہے۔ اب اسے روکنا ہوگا۔ ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ واپس لے لیے جائیں، لیکن کم از کم اب معاملات میں کچھ سمجھ داری اور توازن واپس آئے گا۔‘

‘ ایچ-1 بی ویزا اور بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبہ سے متعلق غیر یقینی صورت حال پر بات کرتے ہوئے سونی نے کہا کہ امریکی ٹیکنالوجی کے شعبے کو ہندوستانی صلاحیتوں سے براہ راست فائدہ پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق کانگریس کی بڑھتی ہوئی نگرانی سے ویزا پالیسی میں اچانک تبدیلیوں پر روک لگ سکتی ہے، جن سے تقریباً 3 لاکھ کارکنان اور طلبہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ہندوستان اور امریکہ کے مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے کے بارے میں سونی نے کہا کہ ڈیموکریٹس کی جانب سے محنت کشوں کے حقوق اور ماحولیاتی معیارات پر زیادہ سخت جانچ پڑتال کے باعث معاہدے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ تاہم ان کے نزدیک یہ تاخیر ہندوستان کے مفاد میں بھی ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’خراب معاہدہ کرنے کے بجائے بہتر ہے کہ اس میں تاخیر کی جائے تاکہ اس پر مزید بات چیت ہو سکے۔‘‘ سونی نے اعتماد ظاہر کیا کہ ہندوستان کے بنیادی اسٹریٹجک مفادات، خاص طور پر کواڈ (ہندوستان، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کا چار ملکی اتحاد) کو واشنگٹن میں دوبارہ اہمیت حاصل ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وسیع تر عالمی برادری کے ساتھ یورپ اور نیٹو کے روایتی اتحادیوں کو بھی یک طرفہ فیصلوں کے بجائے مشاورت اور منظم سفارت کاری کی واپسی سے فائدہ پہنچے گا۔

امریکی کانگریس میں سیاسی تبدیلی کے پس منظر میں ملک کے اندر مہنگائی، طلبہ کے قرضوں اور روزگار کے تحفظ جیسے معاشی مسائل پر عوامی ناراضگی بھی اہم رہی ہے۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات اور ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی نے بھی سیاسی ماحول کو متاثر کیا۔ ڈیموکریٹس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کرنے سے انتظامیہ کے فیصلوں پر نگرانی مزید سخت ہونے کا امکان ہے۔ اس سے نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان یک طرفہ فیصلوں کے بجائے کثیر ملکی تعاون، باہمی مشاورت اور منظم مذاکرات کے ایک نئے دور کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔