سری وجے پورم: ہندوستان 30 اکتوبر سے 3 نومبر تک سری وجے پورم میں بمسٹیک میری ٹائم سکیورٹی مشق کی میزبانی کر رہا ہے۔ اس مشق میں بمسٹیک کے رکن ممالک کے بحری جہاز حصہ لے رہے ہیں۔ اس کا مقصد سمندری تعاون کو مضبوط بنانا اور خلیج بنگال میں مختلف ممالک کے درمیان بحری کارروائیوں میں تال میل اور ہم آہنگی کو بہتر بنانا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ ہندوستان اس مشق کی میزبانی کر رہا ہے۔ یہ ان اہم اقدامات میں سے ایک ہے جن کا اعلان وزیر اعظم نریندر مودی نے تھائی لینڈ میں منعقدہ بمسٹیک کے چھٹے سربراہ اجلاس میں کیا تھا۔
انہوں نے کہا، ’’30 اکتوبر کو شروع ہونے والی اس مشق میں پہلے 3 دن میز پر بیٹھ کر فرضی حالات میں مشق کی جائے گی، جس کے بعد 2 دن بندرگاہ پر بحری جہازوں کے ساتھ عملی سرگرمیاں ہوں گی۔ اس میں بمسٹیک کے رکن ممالک کے بحری جہاز حصہ لے رہے ہیں۔‘‘ اس اقدام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے جیسوال نے کہا، ’’یہ مشق بمسٹیک رہنماؤں کے مشترکہ وژن کو عملی شکل دیتی ہے۔ اس سے سمندری تعاون مضبوط ہوگا، بحری کارروائیوں میں تال میل اور مختلف ممالک کی افواج کے درمیان مل کر کام کرنے کی صلاحیت بہتر ہوگی اور خلیج بنگال میں محفوظ، مستحکم اور پُرامن سمندری ماحول قائم کرنے میں مدد ملے گی۔‘
‘ یہ مشق بمسٹیک کے رکن ممالک کے درمیان علاقائی سمندری سلامتی کے تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے کیے جانے والے اہم اقدامات میں شامل ہے۔ اس سے پہلے 13 اکتوبر کو ہندوستان نے نئی دہلی میں بمسٹیک کے وزرائے داخلہ کی پہلی میٹنگ کی میزبانی کی تھی۔ اس میٹنگ کا مقصد دہشت گردی، سرحد پار منظم جرائم، منشیات، انتہا پسندی، انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی مالی لین دین اور سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی صدارت میں ہونے والی اس پہلی میٹنگ میں ہندوستان اور بمسٹیک کے دیگر رکن ممالک نے علاقائی سلامتی سے متعلق 5 اہم اقدامات کی منظوری دی۔ ان میں انسانی اسمگلنگ، منشیات پر قابو پانے، منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور غیر قانونی مالی لین دین سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔
میٹنگ میں ’دہلی اعلامیہ‘ بھی منظور کیا گیا، جس میں رکن ممالک نے خلیج بنگال کے خطے میں علاقائی سلامتی، باہمی اعتماد اور تعاون کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ وزرائے داخلہ کی میٹنگ میں منظور کیے گئے 5 اہم اقدامات میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف بمسٹیک کنونشن، منشیات پر قابو پانے کے لیے بمسٹیک کا لائحۂ عمل، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے صلاحیت سازی سے متعلق مفاہمت کی یادداشت، غیر قانونی مالی لین دین کی روک تھام کے لیے لائحۂ عمل اور خلیج بنگال کے خطے میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری اور باہمی تال میل بہتر بنانے کا منصوبہ شامل ہیں۔
بنگال کی خلیج میں کثیر شعبہ جاتی تکنیکی اور اقتصادی تعاون کے لیے قائم تنظیم بمسٹیک میں جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے 7 ممالک شامل ہیں۔ جنوبی ایشیا سے ہندوستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال اور سری لنکا، جب کہ جنوب مشرقی ایشیا سے میانمار اور تھائی لینڈ اس کے رکن ہیں۔ بمسٹیک کے رکن ممالک کے خطے میں مجموعی طور پر 1.7 ارب افراد آباد ہیں، جو دنیا کی کل آبادی کا تقریباً 22 فیصد ہیں۔ ان ممالک کی مجموعی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) 5 ٹریلین امریکی ڈالر ہے۔