ہندوستان ارجنٹینا کا چھٹا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا ہے

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 30-10-2026
ہندوستان ارجنٹینا کا چھٹا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا ہے
ہندوستان ارجنٹینا کا چھٹا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا ہے

 



نیم رانا،: ارجنٹینا کے سفیر نے کہا ہے کہ ہندوستان اب ارجنٹینا کا چھٹا سب سے بڑا اقتصادی شراکت دار بن گیا ہے، جو دونوں ملکوں کی معیشتوں کے درمیان گہری ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔ رافلس یونیورسٹی، نیم رانا میں منعقد ہونے والی ’ورڈز بیونڈ بارڈرز 2026 کانکلیو‘ سے پہلے خطاب کرتے ہوئے ارجنٹینا کے سفیر نے کہا، ’’اس وقت ہندوستان ارجنٹینا کا چھٹا سب سے بڑا اقتصادی شراکت دار بن چکا ہے اور یہ ہماری معیشتوں کے درمیان گہری ہم آہنگی کا ثبوت ہے۔‘‘

یوروگوئے کے سفیر البرٹو گوانی، فن لینڈ میں تعینات پیرو کے سفیر ارنیستو پنٹو بازوکو رٹلر اور ہندوستان میں چلی کے سابق سفیر خورخے ہائن کے ساتھ ایک پینل مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے سفیر نے کہا کہ ہندوستان اور جنوبی امریکہ کے ممالک کے درمیان تعاون اس بات کی ایک مثال ہے کہ دنیا کس طرح ایک دوسرے پر منحصر ہو چکی ہے اور ہندوستان جیسا ملک دور دراز علاقوں میں بھی اپنے فطری شراکت دار تلاش کر سکتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’حال ہی میں وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا تھا کہ ہندوستان کو توانائی، خوراک، کھاد اور مالیات کے شعبوں میں مشکل حالات کا سامنا ہے۔

اسی تناظر میں ہندوستان دنیا بھر میں قابل اعتماد شراکت داروں کی تلاش اور ان کے ساتھ روابط بڑھا رہا ہے۔‘‘ سفیر نے کہا، ’’ارجنٹینا ہندوستان کی غذائی سلامتی میں تعاون کر رہا ہے۔ وہ ہندوستان کو خوردنی تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے اور ہم کان کنی کے اہم شعبے میں پہلے ہی تعاون کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ارجنٹینا اور ہندوستان توانائی کے شعبے میں بھی تعاون کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔‘‘ اس موقع پر انہوں نے ارجنٹینا کے علاقے واکا موئرتا میں گیس کے وسیع ذخائر کا بھی ذکر کیا۔ ارجنٹینا کے سفیر نے کہا، ’’گزشتہ سات یا آٹھ برسوں کے دوران ہمارے تعلقات میں بنیادی تبدیلی آئی ہے۔

اس عرصے میں ہماری مشترکہ اقدار کے ساتھ ساتھ قومی مفادات میں بھی ہم آہنگی پیدا ہوئی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات بنیادی طور پر دونوں ملکوں کی معیشتوں کے درمیان مضبوط تکمیلی ہم آہنگی پر قائم ہیں۔ سفیر نے بتایا کہ 2024 میں اپنی تقرری کے بعد سے وہ ہندوستان کے مختلف علاقوں کے 55 سے زیادہ دورے کر چکے ہیں اور انہوں نے کہا کہ وہ ہندوستان کی اقتصادی ترقی اور توسیع کی غیر معمولی کامیابی کے خود گواہ ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہندوستان اور مجموعی طور پر ایشیا کے ممالک جنوبی امریکہ کے ملکوں کے فطری شراکت دار ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کسی حد تک 21ویں صدی ہمارے سامنے بڑے مواقع لے کر آئی ہے، کیونکہ دنیا کے اس حصے کے بڑے ممالک جنوبی امریکہ کی پیداوار کی مانگ کر رہے ہیں۔