نیویارک: ہندوستان اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے جمعہ کو نیویارک میں منعقدہ ہندوستان-جی سی سی ٹرائیکا وزارتی اجلاس کے دوران اپنے مشترکہ ایکشن پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لیا اور مغربی ایشیا کی صورت حال سمیت علاقائی و عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں فریقوں نے بین الاقوامی آبی راستوں میں تجارتی بحری جہازوں کو درپیش چیلنجز پر بھی بات کی۔ وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر منعقدہ اس اجلاس میں ہندوستانی وفد کی قیادت کی۔
جی سی سی کی جانب سے ٹرائیکا سطح پر بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی، جی سی سی کے سکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوئی اور سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر نے شرکت کی۔ متحدہ عرب امارات، قطر، عمان اور کویت کے وزرا اور اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ رہنماؤں نے 9 ستمبر 2024 کو ریاض میں منعقدہ پہلے ہندوستان-جی سی سی مشترکہ وزارتی اجلاس برائے اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں حاصل ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ ہندوستان اور جی سی سی ممالک کے درمیان ’’تاریخی طور پر قریبی اور دوستانہ تعلقات‘‘ ہیں، جن کی بنیاد مضبوط تجارتی روابط اور عوامی سطح پر مستحکم تعلقات پر ہے۔ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، صحت، ٹیکنالوجی اور ثقافتی تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں بھی یہ تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں۔ وزارت کے مطابق مالی سال 2025-26 میں ہندوستان اور جی سی سی کے درمیان مجموعی تجارت 178.66 ارب ڈالر رہی۔ اجلاس میں ہندوستان-جی سی سی مشترکہ ایکشن پلان 2024-2028 پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس منصوبے میں سیاسی مذاکرات، سلامتی، تجارت و سرمایہ کاری، زراعت و غذائی تحفظ، ٹرانسپورٹ، توانائی، صحت، ثقافت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں مشترکہ سرگرمیوں کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق رہنماؤں نے کہا کہ مشترکہ ایکشن پلان میں شامل مختلف شعبے ہندوستان اور جی سی سی ممالک کے درمیان تعلقات کی وسعت اور گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔
انہوں نے ان شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے میں ہونے والی مسلسل پیش رفت کو بھی سراہا۔ رہنماؤں نے ہندوستان-جی سی سی آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے مذاکرات شروع ہونے کا بھی خیرمقدم کیا۔ ان مذاکرات کے لیے شرائطِ کار فروری 2026 میں طے کی گئی تھیں۔ دونوں فریقوں نے کہا کہ ایف ٹی اے پر دستخط کے بعد ہندوستان اور جی سی سی کے درمیان تجارت کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے میں مدد ملے گی۔ اس سے برآمدات میں توسیع اور تنوع پیدا ہونے کے ساتھ دونوں جانب اقتصادی انضمام بھی مضبوط ہوگا۔
ایس جے شنکر نے مغربی ایشیا میں حالیہ تنازع کے دوران تجارتی راستوں میں رکاوٹوں کے باوجود ہندوستان کو توانائی اور کھاد کی فراہمی جاری رکھنے پر جی سی سی ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے قابل تجدید توانائی، حیاتیاتی ایندھن اور ماحول دوست ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھا کر ہندوستان-جی سی سی توانائی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔ عوامی سطح کے روابط کے حوالے سے رہنماؤں نے فنون، ورثے، یوگا، موسیقی، سنیما اور ادب کے شعبوں میں مشترکہ سرگرمیوں کی اہمیت پر زور دیا۔ جے شنکر نے حالیہ مغربی ایشیا تنازع کے دوران ہندوستانی تارکین وطن کی فلاح و بہبود اور ان کی حفاظت یقینی بنانے پر جی سی سی ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں فریقوں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا۔ ان میں مغربی ایشیا کی صورت حال، بین الاقوامی آبی راستوں میں تجارتی بحری جہازوں کو درپیش چیلنجز، کثیر ملکی اداروں میں اصلاحات، پائیداری اور دہشت گردی شامل ہیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق جے شنکر نے علاقائی امن اور سلامتی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تنازعات کو ’’مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے‘‘ کی کوششوں کی حمایت کی۔ دونوں فریقوں نے ہندوستان-جی سی سی مشترکہ وزارتی اجلاس برائے اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے دوسرے اجلاس کو جلد از جلد منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔ اس سے قبل جے شنکر نے ایکس پر کہا تھا کہ انہیں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ہندوستان-جی سی سی ٹرائیکا وزارتی اجلاس کی مشترکہ صدارت کرنے پر خوشی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس میں ہندوستان-جی سی سی مشترکہ ایکشن پلان 2024-28 پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کے طریقوں پر بات ہوئی۔ جے شنکر نے ہندوستان-جی سی سی ایف ٹی اے مذاکرات شروع ہونے کا خیرمقدم کرتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، غذائی تحفظ، صحت، نئی ٹیکنالوجی، ثقافت اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعلقات مزید مضبوط بنانے کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے ہندوستانی برادری کے لیے جی سی سی ممالک کی جانب سے فراہم کی جانے والی حمایت کا شکریہ ادا کیا اور بحری آمدورفت کی آزادی، سمندری مسافروں اور تجارتی جہازوں کی سلامتی کے لیے ہندوستان کے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔