نیویارک: ہندوستان نے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں احتجاج کے دوران پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ہندوستان نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) سے اپیل کی ہے کہ علاقے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے معاملے کا نوٹس لیا جائے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مشن کے فرسٹ سکریٹری انوج سوروپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کے 81ویں اجلاس میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے ساتھ سوال و جواب کے دوران ہندوستان کا موقف پیش کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا۔ ہندوستانی مشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ بیان میں انسانی حقوق کی کونسل کے رکن کی حیثیت سے ہندوستان کے تعمیری تعاون کو اجاگر کیا گیا۔ ساتھ ہی، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے رویے میں ’’چنندہ معاملات پر توجہ دینے اور دوہرے معیار‘‘ پر تشویش ظاہر کی گئی، جس سے کثیر ملکی تعاون پر اعتماد کمزور ہوتا ہے۔
ہندوستان نے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے ساتھ مل کر کام کرنے کے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ ہندوستان نے پاکستان سے متعلق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی ایک رپورٹ کا مطالبہ کیا، جس میں پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، گرفتار عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کو قانونی کارروائی کے مناسب مواقع فراہم کرنے اور پورے علاقے میں انٹرنیٹ پر عائد پابندیاں ختم کرنے جیسے معاملات شامل ہوں۔ ہندوستان نے پاکستان سے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے ملک کے بڑے حصوں، خصوصاً اپنے غیر قانونی قبضے والے علاقوں میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر غور کرے۔
ہندوستانی مشن نے اپنی پوسٹ میں کہا، ’’ہم نے پاکستان سے متعلق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی رپورٹ کا مطالبہ کیا، جس میں پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں اس کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، گرفتار عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے لیے قانونی کارروائی کے مناسب تقاضوں کی پابندی اور پورے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے مطالبات شامل ہوں۔ ہم نے پاکستان سے اپیل کی کہ وہ اس بات پر غور کرے کہ ملک کے بڑے حصوں، خاص طور پر اس کے غیر قانونی قبضے والے علاقوں میں انسانی حقوق کس طرح پامال کیے جا رہے ہیں۔‘
‘ یہ بیان پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی اور عوامی احتجاج کے دوران سامنے آیا ہے۔ جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی طویل عرصے سے زیر التوا مطالبات، حکومت کی بے عملی اور مظاہروں سے نمٹنے کے سرکاری طریقۂ کار کے خلاف احتجاج کی قیادت کر رہی ہے۔ اسی ماہ کے آغاز میں کمیٹی نے پورے علاقے میں غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال اور پہیہ جام کا اعلان کیا تھا، جس سے حکومت کے ساتھ اس کی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔ کمیٹی نے حقیقی انتخابی مینڈیٹ کے بغیر سیاسی قیادت مسلط کیے جانے کی بھی مخالفت کی، جس سے حکمرانی کے طریقۂ کار پر عوامی ناراضی مزید بڑھ گئی۔
مختلف علاقوں میں مظاہروں کے دوران جھڑپوں اور لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات کے بعد صورتِ حال مزید کشیدہ ہو گئی۔ ایکشن کمیٹی نے الزام لگایا کہ مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی گئی، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔ حالیہ احتجاج کی ایک وجہ جولائی میں علاقے میں ہونے والے نام نہاد انتخابات بھی ہیں، جن کے دوران تشدد اور انتخابی دھاندلی کے الزامات سامنے آئے تھے۔ طویل ہڑتال اور مظاہروں کے باعث سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام کی جانب سے عوامی جلسوں، ریلیوں اور گھر گھر جا کر مہم چلانے کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ انتخابات میں عوام کی عدم دلچسپی بھی علاقے میں سیاسی سرگرمیوں میں کمی کا سبب بنی۔
مظاہرین نے راولا کوٹ میں پاکستانی فورسز کی جانب سے احتجاج کرنے والوں پر اندھا دھند فائرنگ کی بھی مذمت کی۔ گزشتہ ماہ جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے پاکستان کی حکومت پر الزام لگایا تھا کہ وہ پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں ایسے حالات پیدا کر رہی ہے جو بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کمیٹی نے خبردار کیا تھا کہ احتجاج اور اختلافِ رائے سے نمٹنے کا حکومتی طریقۂ کار علاقے میں مزید بے چینی کو جنم دے سکتا ہے۔
مظاہرین کے مطالبات میں گرفتار کارکنوں کی رہائی، احتجاج کرنے والوں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے اور کمیٹی کے دیگر مطالبات پر عمل درآمد بھی شامل ہے۔ علاقے میں جاری بے چینی، جانی نقصان کے الزامات اور گرفتار کارکنوں کی رہائی کے مطالبات نے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال کو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ہندوستان نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور رپورٹ ہونے والی ہلاکتوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات پر زور دے۔