ہندوستان اور ویشیگراد ممالک کا توانائی سلامتی، دفاع اور ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر زور

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 22-09-2026
ہندوستان اور ویشیگراد  ممالک کا توانائی سلامتی، دفاع اور ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر زور
ہندوستان اور ویشیگراد ممالک کا توانائی سلامتی، دفاع اور ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر زور

 



نیویارک: ہندوستان اور وسطی یورپ کے ویشیگراد گروپ (وی 4) کے ممالک پولینڈ، ہنگری، سلوواکیہ اور چیک جمہوریہ نے توانائی کی سلامتی اور توانائی کے ذرائع میں تنوع کے لیے عملی اور حقیقت پسندانہ طریقہ اپنانے پر زور دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دفاع، ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبوں میں باہمی تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ بات نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ہونے والی پہلی وی 4 پلس ہندوستان وزرائے خارجہ میٹنگ کے بعد جاری سلوواکی وزارت خارجہ کے بیان میں کہی گئی۔

یہ اجلاس پیر کو سلوواکیہ کی موجودہ وی 4 صدارت کے تحت منعقد ہوا، جس کی صدارت سلوواکیہ کے وزیر خارجہ یوراج بلانار نے کی۔ اجلاس میں ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر، ہنگری کی وزیر خارجہ انیتا اوربانوا، چیک جمہوریہ کے وزیر خارجہ پیٹر ماتسینکا اور پولینڈ کے وزیر خارجہ رادوسلاو سیکورسکی نے شرکت کی۔ مذاکرات میں توانائی کی سلامتی اور عالمی تنازعات کے باعث سپلائی چین پر پڑنے والے اثرات خاص طور پر زیر بحث آئے۔ سلوواکی وزیر خارجہ بلانار نے کہا کہ ہندوستان اور وی 4 ممالک کو توانائی کی سلامتی سے متعلق مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے اور عالمی منڈی میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کے درمیان اس شعبے میں تعاون اہم ہے۔

ان کے مطابق یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں کے اثرات ہندوستان، یورپ اور وی 4 ممالک کی معیشتوں پر پڑ رہے ہیں اور ان حالات میں توانائی کے شعبے میں ہندوستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سلوواکی فریق نے توانائی کے معاملات میں عملی اور غیر نظریاتی نقطۂ نظر اختیار کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا، جس کا مقصد معاشی اور صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانا ہے۔ اجلاس میں دفاع اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو بھی اہم موضوع قرار دیا گیا۔ ایس جے شنکر نے وی 4 ممالک کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک صنعتی، اختراعی اور تکنیکی صلاحیتوں کے اعتبار سے نمایاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان وی 4 ممالک کے ساتھ ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبوں میں مزید تعاون کے امکانات تلاش کرے گا۔ جے شنکر نے دفاعی شعبے میں ہندوستان کے چاروں وی 4 ممالک کے ساتھ موجود تعلقات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ان تعلقات کو مزید مضبوط اور آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق یوکرین کے تنازع اور خلیجی خطے کی صورت حال سمیت بڑے عالمی بحرانوں پر بھی اجلاس میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ اجلاس وی 4 پلس ہندوستان فارمیٹ کے تحت وزرائے خارجہ کی سطح پر پہلا اجلاس تھا، جس کے ذریعے ہندوستان اور پولینڈ، ہنگری، سلوواکیہ اور چیک جمہوریہ کے درمیان اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کے لیے ایک باقاعدہ پلیٹ فارم قائم ہوا ہے۔

سلوواکی وزیر خارجہ بلانار نے کہا کہ اس فارمیٹ کو قائم کرنے کے لیے سلوواکیہ نے 11 سال تک کوشش کی اور یہ اجلاس سلوواکی سفارت کاری کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔ ان کے مطابق وی 4 ممالک کے تعاون میں ہندوستان ایک اہم بیرونی شراکت دار بن سکتا ہے اور اس پلیٹ فارم میں اسٹریٹجک تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ اجلاس میں اقتصادی تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی بات ہوئی۔

بلانار نے یورپی یونین اور ہندوستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یورپی یونین اور بالخصوص وی 4 ممالک کی معیشتوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر طے شدہ منصوبے کے مطابق پیش رفت جاری رہی تو یورپی یونین-ہندوستان آزاد تجارتی معاہدے پر اس سال دسمبر میں دستخط ہونے کی توقع ہے۔ اجلاس میں اقوام متحدہ کے نظام میں اصلاحات سمیت کئی کثیر ملکی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

سلوواکیہ نے اصلاح شدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہندوستان کی مستقل رکنیت کی کوشش کی حمایت کا اعادہ کیا۔ اس کے علاوہ ہندوستان اور سلوواکیہ نے 2028-29 کی مدت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشستوں کے لیے ایک دوسرے کی امیدواری کی حمایت کی بھی تصدیق کی۔