نئی دہلی: وزارت دفاع کے مطابق دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ نے پیر کو امریکی ایوان نمائندگان کے دو طرفہ وفد سے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت ایوان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین اور نمائندے برائن ماسٹ نے کی۔ ملاقات میں ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ابھرتی ہوئی جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری، خاص طور پر دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون پر بات چیت ہوئی۔ وزارت دفاع نے ایکس پر جاری پوسٹ میں کہا کہ ملاقات کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں دفاعی صنعتی اور تکنیکی تعاون پر خصوصی توجہ دی گئی۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ہندوستان اور امریکہ کے درمیان مشترکہ فوجی مشق ’یُدھ ابھیاس 2026‘ اختتام پذیر ہوئی ہے۔ اس مشق میں جدید ہتھیاروں کے نظام، ڈرونز اور خودکار نظاموں کے استعمال کے ساتھ مشترکہ تربیت کی گئی۔ ہندوستانی فوج کے مطابق مشق کے دوران مہاجن فیلڈ فائرنگ رینج میں ’اسکائی اسٹرائیکر‘ لوئٹرنگ میونیشن نے کامیابی کے ساتھ درست نشانہ لگایا۔
فوج کی جانب سے ایکس پر جاری ویڈیو میں دیکھا گیا کہ اس بغیر پائلٹ ہتھیار نے پہلے مقررہ اہداف کی نشاندہی کی، پھر انہیں نشانہ بنایا اور درست حملہ کیا۔ فوج نے کہا کہ اس کارروائی سے موجودہ جنگی حالات میں مقامی سطح پر تیار دفاعی ٹیکنالوجی، درست نشانہ لگانے کی صلاحیت اور بغیر پائلٹ نظاموں کے بڑھتے ہوئے کردار کا مظاہرہ ہوا۔ وزارت دفاع کے مطابق ’یُدھ ابھیاس 2026‘ کا مقصد دونوں ملکوں کی افواج کی مشترکہ جنگی صلاحیت میں اضافہ کرنا تھا، تاکہ پہاڑی اور نیم پہاڑی علاقوں میں انٹیگریٹڈ بیٹل گروپس کی تعیناتی کی صلاحیت بہتر ہو۔ اس دوران پیدل فوج پر مبنی کارروائیوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔
مشق کے دوران دونوں افواج کے درمیان باہمی تعاون، بہترین جنگی طریقہ کار کے تبادلے، مشترکہ منصوبہ بندی اور کارروائیوں کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی گئی۔ ڈرونز اور خودکار نظاموں کے ذریعے نگرانی اور جاسوسی کی تربیت کے ساتھ جدید ہتھیاروں کے نظام کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا۔ اس سے قبل جمعرات کو ہندوستان میں امریکہ کے سفیر سرجیو گور اور 10 کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل وکرانت سریش دیشپانڈے نے مہاجن فیلڈ فائرنگ رینج میں ہندوستانی اور امریکی فوجی اہلکاروں کی مشترکہ فائرنگ کا مظاہرہ دیکھا۔
اس مظاہرے میں ہندوستان کی پناکّا ملٹی بیرل راکٹ لانچر، ایم 777 الٹرا لائٹ ہاوٹزر، دھنوش آرٹلری سسٹم، اے ایچ-64 ای اپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹر، ایل 70 فضائی دفاعی توپیں اور سواتھی ویپن لوکیٹنگ ریڈار شامل تھے۔ امریکی فوج نے ہائی مارس اور ایم-لِڈز نظام پیش کیے۔ امریکی سفیر سرجیو گور نے ایکس پر اپنے تاثرات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ مہاجن فیلڈ فائرنگ رینج میں امریکی اور ہندوستانی فوجیوں کو ایک ساتھ تربیت کرتے دیکھنا متاثر کن تھا۔ ان کے مطابق یہ مشق دونوں ملکوں کے دفاعی تعاون، باہمی اعتماد، تیاری، باہمی عملی تعاون اور مشترکہ مقصد کی عکاسی کرتی ہے۔