نئی دہلی: مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی اس پیش گوئی کا خیرمقدم کیا ہے کہ 2027 میں ہندوستان کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 7 فیصد رہ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کے متعدد آزاد تجارتی معاہدوں سے عالمی اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملنے اور سپلائی چین کو زیادہ مضبوط بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ آئی ایم ایف نے یہ اندازہ ایسے وقت میں ظاہر کیا ہے جب اس نے خبردار کیا ہے کہ توانائی اور غذائی اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورت حال کے باعث عالمی معیشت کی مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت کمزور پڑ رہی ہے۔
پیوش گوئل نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا، ’’ہندوستان ناقابلِ تسخیر ہے! آئی ایم ایف نے 2027 میں ہندوستان کی جی ڈی پی میں 7 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی ہے، جس سے ہم دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شامل رہیں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں کیے گئے ہمارے متعدد آزاد تجارتی معاہدوں سے بھی عالمی اقتصادی سرگرمیوں کو مثبت فائدہ پہنچنے اور سپلائی چین کو زیادہ مضبوط بنانے کی توقع ہے۔‘‘ آئی ایم ایف کے مطابق، عالمی سطح پر افراطِ زر کی شرح 2026 میں بڑھ کر 4.7 فیصد ہوسکتی ہے، تاہم 2027 میں اس کے کم ہوکر 4.1 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجوہات توانائی اور غذائی اشیا کی بلند قیمتیں ہیں۔
فنڈ نے اکتوبر 2026 کی اپنی عالمی اقتصادی منظرنامے سے متعلق رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی معیشت اب بھی مختلف جھٹکوں کے باوجود اپنی مضبوطی برقرار رکھے ہوئے ہے، لیکن یہ مضبوطی پہلے کے مقابلے میں زیادہ نازک اور مختلف ممالک میں غیر یکساں ہوتی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں 2026 کے لیے عالمی اقتصادی ترقی کی شرح 3.1 فیصد اور 2027 کے لیے 3.4 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق، عالمی معیشت بار بار کے بحرانوں کے باوجود اس لیے سنبھلی رہی کہ توانائی کی فراہمی کے متبادل ذرائع دستیاب رہے، بعض ممالک نے پیداوار بڑھائی، پہلے سے موجود ذخائر استعمال کیے گئے اور توانائی کے دوسرے ذرائع کی طرف منتقلی میں تیزی آئی۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں سرمایہ کاری نے بھی اقتصادی سرگرمیوں اور عالمی تجارت کو برقرار رکھنے میں مدد دی۔ تاہم، آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ یہ عوامل طویل عرصے تک جاری رہنے والی رکاوٹوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوسکتے۔ توانائی کے ذخائر میں کمی، نئے جغرافیائی سیاسی بحران اور مسلسل غیر یقینی صورت حال سے سرمایہ کاروں اور صارفین کا اعتماد متاثر ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی اقتصادی ترقی کی رفتار بھی سست پڑنے کا خدشہ ہے۔