سمرقند: امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو اشارہ دیا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ جلد حتمی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ روبیو ان دنوں ازبکستان میں ہیں۔ وہ منگل کو ممبئی پہنچیں گے، جہاں ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کریں گے۔ اس ہفتے کے آخر میں ان کے جام نگر جانے کا بھی امکان ہے، جہاں دنیا کی سب سے بڑی ریفائنریوں میں سے ایک واقع ہے۔ سمرقند میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا، ’’ہم اس وقت ہندوستان کے ساتھ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم اس کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔‘
‘ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران عالمی منڈی میں توانائی کی رسد اور قیمتوں پر پڑنے والے اثرات کے پیش نظر امریکہ کو پابندیوں میں کچھ رعایتیں دینی پڑی ہیں۔ روبیو کے مطابق، ان تمام عوامل کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش جاری ہے اور قومی سلامتی کے معاملات میں صدر کی جانب سے پابندیوں سے متعلق رعایت دینے کے فیصلوں میں بھی ان امور کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ روبیو نے مزید کہا کہ ہر ملک کو خارجہ پالیسی کے فیصلے کرتے وقت کئی پیچیدہ عوامل پر غور کرنا پڑتا ہے۔
جغرافیائی حقیقتوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ بعض ممالک کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع حاصل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کوئی جواز نہیں، لیکن خارجہ پالیسی طے کرتے وقت ان تمام پہلوؤں کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روسی ایندھن کی فروخت سے متعلق کئی پابندیوں پر عمل درآمد روکنے کے لیے رعایت دی تھی۔ یہ پابندیاں لنڈسے او گراہم کے اس قانون کے تحت عائد کی جانی تھیں جس کا تعلق روس اور ایران پر پابندیاں لگانے سے ہے۔ اس فیصلے کے بعد روبیو نے ہندوستان کو امریکہ کا اہم اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ محصولات یا پابندیاں عائد کرنے سے پہلے اس کی توانائی کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
اس قانون کے تحت روسی خام تیل یا قدرتی گیس کے پانچ بڑے درآمد کنندگان سے امریکہ آنے والی اشیا پر 100 فیصد تک محصولات عائد کیے جا سکتے تھے۔ ان درآمد کنندگان میں ہندوستان اور چین بھی شامل ہیں۔ فی الحال اس قانون کے ان اقدامات پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔ روبیو نے کہا، ’’یہ پابندیاں صرف روس کے خلاف نہیں تھیں، بلکہ ان میں ہندوستان سمیت کئی ممالک پر محصولات عائد کرنے کی گنجائش بھی شامل تھی۔ میرا خیال ہے کہ صدر 60 دن کی مدت میں یہ جائزہ لینا چاہتے ہیں کہ پابندیاں اور محصولات عائد کرنے سے عالمی معیشت اور خود امریکی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان جیسے ممالک نے رضاکارانہ طور پر اپنے توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کیا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ روس سے بڑی مقدار میں توانائی حاصل کر رہے ہیں، کیونکہ ایک دن میں توانائی کے ایک ذریعے کو چھوڑ کر دوسرے ذریعے کی طرف منتقل ہونا آسان نہیں ہے۔ انہوں نے ہندوستان کو امریکہ کا اہم اتحادی اور شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے اور مناسب حکمت عملی طے کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔ روبیو نے کہا کہ امریکی صدر لنڈسے گراہم کے قانون کی منظوری کے بعد بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورت حال کو بھی مدنظر رکھ رہے ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر سعودی عرب اور حوثی ملیشیا کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعے کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق، اس قانون میں پابندیوں سے متعلق رعایتوں کی گنجائش رکھنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دنیا میں جاری مختلف تنازعات اور توانائی کی عالمی رسد پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے وقت مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کی رسد پر دباؤ صرف ایران یا آبنائے ہرمز کی صورت حال کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں اور روس و یوکرین کی جنگ کے باعث بھی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچ رہا ہے، جس کا اثر عالمی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
جمعہ کو ٹرمپ نے گراہم ایکٹ کی دفعہ 115 کا استعمال کیا تھا۔ یہ دفعہ امریکی صدر کو اختیار دیتی ہے کہ وہ کسی غیر ملکی شخص کے خلاف پابندیوں کی شقوں، کسی شخص پر عائد پابندیوں یا قانون کے تحت عائد کسی محصول سے متعلق کارروائی میں رعایت دے سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے حکم میں کہا، ’’میں نے کانگریس کو ایک سرٹیفکیشن پیش کیا ہے، جس میں تصدیق کی گئی ہے کہ اس طرح کی رعایت دینا امریکہ کے قومی مفاد میں ہے۔ اس کے ساتھ دفعہ 115 (بی) کے مطابق اس تصدیق کی بنیاد واضح کرنے والی ایک رپورٹ بھی پیش کی گئی ہے۔
‘‘ ٹرمپ نے اس قانون کی دفعات 112 اور 113 کے تحت عائد محصولات سے متعلق کارروائی میں بھی رعایت دی۔ ان دفعات کے تحت امریکہ روس سے درآمد ہونے والی تمام اشیا پر 500 فیصد تک محصول عائد کر سکتا تھا۔ اس کے علاوہ روسی خام تیل یا قدرتی گیس کے پانچ بڑے درآمد کنندگان سے امریکہ آنے والی اشیا پر 100 فیصد تک محصول لگانے کی گنجائش بھی موجود تھی۔ اس پیش رفت کے بعد ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ روبیو کے بیان سے اشارہ ملتا ہے کہ امریکہ تجارتی معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کے ساتھ توانائی کی ضروریات، عالمی منڈی کی صورت حال اور دونوں ملکوں کے اسٹریٹجک تعلقات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔